Islam Times:
2026-07-24@02:50:12 GMT

مودی حکومت آئینی ادارہ پر اپنا کنٹرول چاہتی ہے، کانگریس

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT

مودی حکومت آئینی ادارہ پر اپنا کنٹرول چاہتی ہے، کانگریس

کانگریس کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا نام طے کرنے والی کمیٹی کی میٹنگ آئندہ ایک دو دنوں کیلئے ملتوی کر دینی چاہیئے تھی، کیونکہ سپریم کورٹ متعلقہ قانون پر سماعت کرنے والا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق جاری سرگرمیوں کے دوران کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا نام طے کرنے والی کمیٹی کی میٹنگ آئندہ ایک دو دنوں کے لئے ملتوی کر دینی چاہیئے تھی، کیونکہ سپریم کورٹ متعلقہ قانون پر سماعت کرنے والا ہے۔ کانگریس کے خزانچی اجئے ماکن اور پارٹی ترجمان ابھشیک منو سنگھوی نے اس معاملے میں آج پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران ابھشیک منو سنگھوی نے دعویٰ کیا کہ سلیکشن کمیٹی سے چیف جسٹس کو باہر رکھنے کا مطلب ہے کہ یہ حکومت اس آئینی ادارہ پر اپنا کنٹرول چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو آج سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ کرنے کی جگہ سپریم کورٹ سے گزارش کرنی چاہیئے تھی کہ معاملے کی سماعت فوری مکمل ہو۔

ابھشیک منو سنگھوی نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سلیکشن کمیٹی سپریم کورٹ کے 2 مارچ 2023ء کے اس حکم کی واضح اور براہ راست خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کے انتخاب کے لئے وزیر اعظم، پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد اور چیف جسٹس کی موجودگی والی کمیٹی ہونی چاہیئے۔ سنگھوی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں پیر کی شام سلیکشن کمیٹی کی جو میٹنگ ہوئی، اس میں پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی بھی شامل ہوئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میٹنگ میں کیا ہوا ہے، یہ آئندہ 24 یا 48 گھنٹے میں پتہ چل جائے گا۔

نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے سنگھوی نے کہا کہ عدلیہ کو حق ہے کہ وہ قانون بنائے، لیکن سپریم کورٹ کے وسیع مقاصد کو سمجھے بغیر مودی حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں قانون بنایا گیا۔ قانون بنانے کے حق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب وہی قانون بنائے جائیں گے جو حکومت کے موافق ہوں۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ آئندہ 48 گھنٹے میں جب سپریم کورٹ کی سماعت ہو سکتی ہے تو پھر اس میٹنگ کو ملتوی بھی کیا جا سکتا تھا۔ سنگھوی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے نہ صرف سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ جمہوریت کے جذبات کو بھی درکنار کیا ہے۔ کانگریس کے خزانچی اجئے ماکن نے اس موقع پر کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ 19 فروری کو اس معاملے پر سماعت کی جائے گی اور یہ فیصلہ آئے گا کہ کمیٹی کی تشکیل کس طریقے کی ہونی چاہیئے، ایسے حالات میں آج کی میٹنگ کو ملتوی کرنا چاہیے تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر سلیکشن کمیٹی سپریم کورٹ مودی حکومت کمیٹی کی کی میٹنگ

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن