دہشتگردی کا خاتمہ اولین مشن،ملکی ترقی اس کے ساتھ جڑی ہے، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 18 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہمارا مشن ہے، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ برادر ملک ترکیہ کے صدر دورہ پاکستان پر آئے، ترک صدر کی پاکستان آمد پرعوام نے خوش آمدید کہا، ترکیہ نے ہمیشہ دل کھول کرپاکستان کا ساتھ دیا، ترک صدر نے کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، ہر فورم پر ترکیہ اور پاکستان نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دنوں گیلپ سروے جاری ہوا ہے،

مل کر کام کریں گے تو معاشی ترقی میں تیزی سیاضافہ ہوگا، ورلڈ بینک کے وفد نے پاکستان کی معاشی ترقی کی بھرپور ستائش کی، ہمیں محنت کو یقینی بنانا ہے، پاکستان اپنا مقام ضرور حاصل کرے گا، پاکستان میں بزنس کے ماحول کے حوالے سے 55 فیصد پاکستانیوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے اور یہ گیلپ کا سروے ہے، جو کافی معتبر ہے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند بات ہے لیکن ہمیں آگے بڑھنا ہے اور مزید محنت کرنی ہے، تین چار ماہ بعد بجٹ آئے گا، اب ہمیں اڑان پاکستان اور ہمارا ہوم گرون ایجنڈا ہے، اس پر فی الفور کام شروع کر دینا چاہیئے، اگر ہم مل کر شبانہ روز محنت کریں گے تو ہماری معاشی ترقی کا پہیہ بڑی تیزی سے گھومنا شروع ہو جائے گا،

یقینا اس کے لیے ملک کے اندر سازگار حالات انتہائی ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی چند دن قبل لاہور میں ایک شہید لیفٹننٹ حسان اشرف کا نماز جنازہ ادا کیا، 21 سالہ لیفٹننٹ حسن اشرف نے خارجی دہشت گردوں کے تعاقب میں وطن کے لیے اپنی جان قربان کر دی لیکن شہادت سے پہلے 6 خوارج کو ہلاک کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہمارا مشن ہے، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ قربانیاں ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں، انہی کی بدولت پاکستان میں امن قائم ہوگا اور پاکستان ضرور ترقی کی راستے پر گامزن ہوگا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز عالمی بینک کا وفد مجھے ملا، 9 ڈائریکٹرز آئے ہوئے تھے،

انہوں نے پاکستانی کی معاشی اشاریوں کے حوالے سے یک زبان ہو کر ستائش کی، اور انہوں نے کہا کہ عالمی بینک پاکستان کے ریفارم ایجنڈے پر نہ صرف مطمئن ہے بلکہ انہوں نے بڑے شاندار انداز میں تعریف کی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمیں ان تعریفی کلمات کو سن کر بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اسے اور آگے لے کر جانا چاہتا ہے، پاکستان ضرور آگے بڑے گا۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں رجب طیب اردوان انٹرچینج کو ٹریفک کے لیے کھولنے کا باضابطہ افتتاح کردیا۔

وزیراعظم نے رجب طیب ایردوان انٹرچینج ٹریفک کے لیے کھولنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناح اسکوائر کے بعد ایک اور شاندار عوامی منصوبہ تکمیل تک پہنچا ہے، رجب طیب اردوان انٹرچینج کی تکمیل سے جڑواں شہروں کے لوگوں کے لیے بہترین سفری سہولت ثابت ہوگی۔شہباز شریف نے کہا کہ فلائی اوور، یوٹرن اور سڑکوں کی تعمیر کے اس منصوبہ سے ٹریفک کی روانگی میں بہتری آئی گی

، وزیر داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اور منصوبہ سے منسلک دیگر حکام کو محسن نقوی سپیڈ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، قلیل مدت میں منصوبہ کی تکمیل لائق تحسین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ترقیاتی کام دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے، 84 دنوں میں کم لاگت میں یہ منصوبہ مکمل کیا گیا ہے، اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے مزید منصوبے بھی مکمل کئے جائیں گے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو فوری طور پر مکمل کرنا اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بہت ضروری ہے، اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، اس افتتاحی تقریب کی تصاویر اور ویڈیو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی بھجواں گا۔تقریب سے خطاب میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا اس منصوبہ کو بجٹ میں مختص رقم سے بھی کم لاگت اور ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے،

منصوبہ سے اسلام آباد کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ کی تکمیل کا دورانیہ 180 روز مقرر کیا گیا تھا لیکن اسے 84 دنوں میں مکمل کر لیا گیا، اس منصوبہ میں ایف ٹین سے منسلک 4.

3 کلومیٹر کی سڑکیں بھی تعمیر کی گئی ہیں، بارش کے پانی کے نکاس کیلئے 2 کلومیٹر لمبے نالے بھی بنائے گئے ہیں، منصوبہ کی تکمیل سے یومیہ 70 ہزار گاڑیاں اس فلائی اوور سے مستفید ہوں گی، سیکٹر جی ایٹ، جی نائن، کشمیر ہائی وے اور سینٹورس مال کی طرف آنے والے شہری مستفید ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ