صدارتی خطاب میں حکیم عبد الرشید نے کہا کہ نسل انسانی ایک ہی مرد و عورت سے وجود میں آئی ہے اور قوم، وطن، نسل، رنگ، علاقہ و مذہب و قبائل کی جو تفریق ہے، اسے صرف انسانوں کی شناخت کیلئے ہی رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل و مظہر الحق ٹرسٹ کے زیر اہتمام وادی کشمیر کے قصبہ بیروہ کے ٹاون ہال میں بین المذاہب کانفرنس بعنوان Interfaith dialogue and cultural diversity کا انعقاد کیا گیا، جس میں جموں و کشمیر کے مختلف مذاہب، مسالک و مکاتب فکر کے علماء کرام و دانشور حضرات نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے سربراہ حکیم عبد الرشید کی صدارت میں منعقد ہوئی، جبکہ کونسل کے ترجمان اعلٰی سید سلیم گیلانی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے اور کونسل کا تعارف دینے کے ساتھ ساتھ اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا۔ مظہر الحق ٹرسٹ کے صدر میرواعظ سید عبد الطیف بخاری نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے استقبالیہ خطبہ میں اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عبد الرحمن وار اور اعجاز احمد ککرو کے بصیرت افروز خطابات کے علاوہ جن گرامی قدر دانشور حضرات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں سید محمد اسلم اندرابی، راجندرا سنگھ سمبیال، کلیبر سنگھ، توصیف احمد وانی، مولانا سید باقر نقوی، ڈاکٹر مہجبین نبی، ڈاکٹر سبیہ صفوی، پرشانت سمبیال، واحد رضا، میر امتیاز آفرین، مولانا مشتاق احمد حقنواز، سلیم جاوید، غلام محمد میر اور غلام حسن بٹ وغیرہ شامل تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر کونسل کی جانب سے حلف نامہ پڑھا گیا اور شرکاء ہاتھ سے ہاتھ ملا کر الفاظ دہراتے رہے۔ صدارتی خطاب میں حکیم عبد الرشید نے کہا کہ نسل انسانی ایک ہی مرد و عورت سے وجود میں آئی ہے اور قوم، وطن، نسل، رنگ، علاقہ و مذہب و قبائل کی جو تفریق ہے، اسے صرف انسانوں کی شناخت کے لئے ہی رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسان انسان کی جتنی زیادہ خدمت کرتا رہے اتنا ہی وہ عظیم ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں منظور شدہ قراردادوں کو دھراتے ہوئے شرکاء سے تائید حاصل کی کہ جموں کشمیر میں جملہ نشہ آور اشیاء خصوصی طور شراب پر جلد از جلد پا بندی عائد کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے پنڈت برادری کی کشمیر واپسی کی کاوشوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انکی جلد واپسی کا ماحول پیدا کرنا اصحاب اقتدار و اختیار کی ذمہ داری ہے۔ حکیم عبدالرشید نے کہا کہ جملہ مسائل کا حل مذاکرات و مفاہمت سے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے، اس لئے باہمی منافرت کے بجائے اعتماد باہمی، ہمدردی اور خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی اشد ضروررت ہے۔ انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، پھر سید عبد الطیف الحق بخاری کی دعاوں کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ حکیم عبد انہوں نے

پڑھیں:

نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم  اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔

 اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ  گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔

رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ  معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔

مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔

فٹبال ٹورنامنٹ  کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔

قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز  کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے  ورلڈ سمر  اسپیشل گیمز  تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔

 نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے  ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے