نئی دہلی میں 26 سال بعد بی جے پی کی حکومت بن گئی؛ خاتون وزیر اعلیٰ نے حلف اُٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریکھا گپتا نے دہلی کی نئی وزیر اعلیٰ کا حلف اُٹھا کر چوتھی خاتون وزیراعلیٰ بن گئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے حالیہ الیکشن میں نئی دہلی سے عام آدمی پارٹی کے طویل دورِ اقتدار کا سورج غروب کردیا تھا۔
اتحادی جماعتوں کے ساتھ بی جے پی نئی دہلی میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی اور پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والی ریکھا گپتا کو وزیراعلیٰ بنادیا۔
50 سالہ ریکھا گپتا نئی دہلی کی نویں اور چوتھی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کے ساتھ 6 وزرا نے بھی اپنے عہدوں کا حلف اُٹھایا۔
وزرا میں پرویش سنگھ ورما، آشیش سود، منجندر سنگھ سرسا، رویندر انڈرراج، کیپِل مشرا اور پنکج کمار سنگھ شامل ہیں۔
ریکھا گپتا نے آج دوپہر میں حلف اٹھانے کے بعد سیدھے دہلی سکریٹریٹ پہنچی اور مختصر ملاقاتوں کے بعد کابینہ کا پہلا اجلاس بھی طلب کرلیا۔
نومنتخب وزیراعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ آج شام سات بجے ہمارا کابینہ اجلاس ہے اور ہم 'ویکست دہلی' (ترقی یافتہ دہلی) کے مشن کے لیے دن رات کام کریں گے۔
اس سے قبل 26 سالوں تک پارٹی کو دہلی میں اقتدار نہیں مل سکا تھا۔ بی جے پی نے پچھلی عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت پر آلودہ یمنا دریا کی حالت پر سخت تنقید کی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی کی یمنا صفائی پر مہم نے انہیں بہت فائدہ پہنچایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریکھا گپتا نئی دہلی بی جے پی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔