مریم نواز سے ساہیوال ڈویژن کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی کاموں پر اظہار اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ساہیوال ڈویژن کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اقدامات، امن و امان اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں سڑکوں کی بحالی، ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی فلاحی شعبوں میں جاری اصلاحات پر غور کیا گیا، ارکانِ اسمبلی نے پنجاب بھر میں 20 ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی کے منصوبے کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے مریم نواز کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر ارکان نے صوبے میں جدید کیتھ لیب کے قیام اور الیکٹرو بسز کے اجرا پر بھی وزیراعلیٰ کو سراہا اور کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت، تیز رفتار ترقی اور شفاف گورننس ہی مسلم لیگ (ن) کا اصل ایجنڈا ہے، صوبے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور شہروں و دیہات میں امن و استحکام بحال ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بحالی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبے صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھولنے کا ذریعہ ہیں، ستھرا پنجاب پروگرام محض صفائی مہم نہیں بلکہ عوامی شعور اور ذمہ داری پر مبنی ایک نیا سماجی کلچر ہے۔
وزیراعلیٰ نے ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ حکومتی اقدامات کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مریم نواز
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔