اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان فوج کو اپنی پارٹی کا ذیلی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دیا تھا، جس کو باپ کہتے تھے اسی کے بارے میں بدزبانی کرتے ہیں‘ بانی پی ٹی آئی فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے‘ بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے فوج ان کی پارٹی کا ذیلی ادارہ بن جائے اور اقتدار سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی اب اپنے زخم چاٹ رہی ہے‘ مذموم مقاصد کے لیے9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات رونما کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروپیگنڈے کے ذریعے معیشت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ یہ امریکا میں بے شمار دولت میں سے کچھ کھا رہے ہیں اور کچھ اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں اور کچھ دیگر لابیوں پر خرچ کر رہے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ ایک جانب یہ تین تین چار چار خط لکھ رہے ہیں، پاؤں پڑ رہے ہیں، منتیں ترلے کر رہے ہیں اور دوسری طرف یہ کارروائیاں شروع کی ہوئی ہیں‘ یہ کسی چیز کے ساتھ مخلص ہیں نہ ان کی کوئی کمٹمنٹ ہے‘ ملک کے باہر مظاہرے کر رہے ہیں‘ سوشل میڈیا پر گالی گلوچ ہو رہی ہے، ہر ادارے اور ہر شخص سے متعلق غلط زبان بولی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ بتدریج ہمارے حالات بہتر ہو رہے ہیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، حکومت کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے‘ماضی میں نواز شریف کے اختلافات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ، بے نظیر کے ساتھ رہے، تختہ الٹایا گیا دونوں کا، آئین شکنی کی گئی لیکن کسی نے وہ راہ نہیں اختیار کی جو عمران خان نے اپنائی ہے جو ملک و قوم اور سالمیت کے خلاف ہے، جو شہدا کی توہین کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزر جائے گا، چیزیں بہتر ہو رہی ہیں، چند ماہ یا سال میں سب اچھا ہو جائے گا اور ان کی ملک کے ساتھ انتشار کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع چاہتے تھے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ رہے ہیں کے ساتھ رہی ہے

پڑھیں:

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی

اڈیالا جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی زوجہ محترمہ کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔   اسلام ٹائمز۔ اڈیالا جیل راولپنڈی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، شفیع جان، مینا خان آفریدی فیکڑی ناکے پر موجود رہے، بانی کی تینوں بہنیں کارکنان کی کثیر تعداد کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر موجود رہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں