لاہور؛ 23 لاکھ کی ڈکیتی کا ڈراپ سین، ملزم سے رقم کیسے برآمد ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
لاہور:
اکبری منڈی کے علاقے میں ہونے والی 23 لاکھ کی ڈکیتی کا ڈراپ سین، پولیس نے ملزم کو ٹریس کرکے شہری کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرلی۔
ملزم نے اسلحہ کے زور پر فیاض نامی شہری سے 23 لاکھ روپے لوٹ لیے تھے، رقم چھیننے کی اطلاع پر ایس پی سٹی ڈویژن نے نوٹس لیا۔
ایس پی سٹی ڈویژن قاضی علی رضا نے ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا تھا جس پر ایس ایچ او اکبری گیٹ ہاشم رضا نے کیمروں اور ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔
ملزم سے رقم برآمد کر کے شہری کے سپرد کی گئی، شہری نے اکبری گیٹ پولیس کی کاوشوں کو سراہا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے فوری رسپانس اور ملزم کی گرفتاری پر ایس پی سٹی ڈویژن قاضی علی رضا اور ایس ایچ او اکبری گیٹ ہاشم رضا کو انعام دینے کا اعلان کیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک