امریکہ کو فوری اور انتہائی سخت جواب دینے کیلئے تیار ہیں،کنیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈوکا ٹرمپ کو انتباہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
کینیڈا(نیوزڈیسک)کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی محصولات پر ‘انتہائی سخت ردعمل’ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ نیوز کانفرنس میں جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اگر امریکا اگلے ہفتے اپنی درآمدات پر محصولات عائد کرتا ہے تو کینیڈا کا “فوری اور انتہائی سخت ردعمل ہوگا”۔
ٹروڈو نے مزید کہا کہ کینیڈا اپنے پڑوسی کے ساتھ تجارتی جنگ نہیں چاہتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ پر بھی پچیس فی صد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی، پہلی کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے کہا یورپی یونین کافی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب رہی، ہم سے بہت فائدہ اٹھایا، لیکن اب میں صدر ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یورپی یونین کا قیام امریکا کو نقصان پہنچانے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔دوسری طرف یورپی کمیشن نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین دنیا کی سب سے بڑی آزاد تجارتی منڈی ہے، اور یہ امریکا کے لیے بھی ایک اعزاز ہے، تاہم کسٹم ڈیوٹی پر ہمارا جواب بھی فوری اور مضبوط ہوگا۔
یورپی یونین کی ایگزیکٹو برانچ نے جمعرات کو کہا کہ 27 ممالک کا بلاک امریکا کو کمزور کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا، جیسا کہ امریکی صدر نے کہا ہے، بلکہ اس کی بجائے دنیا کی اس سب سے بڑی آزاد منڈی نے امریکی کمپنیوں کو بڑے اقتصادی ثمرات سے مستفید کیا۔
پیرچناسی 22 ، وادی لیپا، سیری میں برفانی طوفان، 57 افراد پھنس گئے ، ریسکیو آپریشن ، پھنسے سیاحوںکو بحفاظت نکال لیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یورپی یونین کہا کہ
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔