وزیراعظم نے مشاورت مکمل کرلی، کل نو منتخب وزرا کو قلمدان ملنے کا امکان،کس کس کو کون سی وزات ملے گی؟تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 4 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )نو منتخب وزرائے مملکت اور مشیروں کو قلمدان دینے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے مشاورت مکمل کرلی۔ کل نو منتخب وزرا کو قلمدان ملنے کا امکان ہے، مشیر وزیراعظم محمد علی کو نجکاری، وفاقی وزیر علی پرویز ملک کو پیٹرولیم کی وزارت ملنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مصدق ملک کو ماحولیاتی تبدیلی، ڈاکٹر توقیر کو کابینہ و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی وزارت ملنے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حنیف عباسی کو ریلوے، مصطفی کمال کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رضا حیات ہراج کو پارلیمانی امور اور خالد مگسی کو وزارت پانی ملنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کو بین الصوبائی رابطہ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو وزارت صحت، شیزہ فاطمہ کو وزارت آئی ٹی ملنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ 27 فروری کو وفاقی کابینہ میں توسیع کر دی گئی اور نئے شامل ہونے والے وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت نے حلف اٹھا لیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ملنے کا امکان کو قلمدان سب نیوز

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ