خواتین کا عالمی دن،کپیٹل ہسپتال میں سمپوزیم کا انعقاد،آگاہی واک،خواتین کو تمام شعبوں میں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے،ای ڈی ڈاکٹر نعیم تاج
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
خواتین کا عالمی دن،کپیٹل ہسپتال میں سمپوزیم کا انعقاد،آگاہی واک،خواتین کو تمام شعبوں میں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے،ای ڈی ڈاکٹر نعیم تاج WhatsAppFacebookTwitter 0 8 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )خواتین کے عالمی دن کے موقع پر چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی چوہدری محمد علی رندھاوا اور ممبر ایڈمنسٹریشن طلعت محمود کی ہدایات پر خواتین کا عالمی دن کیپیٹل ہسپتال میں بھرپور سرگرمی کے ساتھ منایا گیا اور آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر خواتین کیلئے سمپوزیم کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں اس سال کے یوم خواتین کے موضوع پر روشنی ڈالی گئی تھی۔مقررین نے اینڈومیٹرائیوسس کی تشخیص اور انتظام کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا۔
کلیدی نوٹ سپیکر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ بتول مظہر نے اینڈومیٹرائیوسس کی جلد تشخیص کرنے کی اہمیت پر زوز دیا۔ انہوں نے اینڈومیٹرائیوسس کے علاج میں طرز زندگی میں تبدیلی کے مثبت اثرات کے بارے میں مریضوں کی مناسب مشاورت اور رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر شیبا نورین ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ اوبسٹریٹرکس اینڈ گائناکالوجی کیپیٹل ہسپتال اسلام آباد نے خواتین کے ماہانہ ماہواری کے گرد بدنما داغ کی وجہ سے اینڈومیٹرائیوسس کی تشخیص میں تاخیر کے بارے میں بات کی۔ڈاکٹر ہادیہ عزیز ایسوسی ایٹ گائناکالوجسٹ کیپٹل ہسپتال نے خواتین کے دن پر اینڈومیٹرائیوسس آگاہی مہم منانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اس سال کے یوم خواتین کے موضوع کو اس مرض میں مبتلا مریضوں کے انتظام اور دیکھ بھال کے لیے بحث میں شامل کیا جا سکے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹل ہسپتال ڈاکٹر محمد نعیم تاج نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس طرح کے مزید تعلیمی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا اور نئے دور میں کم سے کم رسائی سرجری کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق اور تمام شعبوں میں بااختیار بنانے کے پروگراموں کی رفتار کو تیز کرنا بہت ضروری ہے جس میں ان کی صحت سے متعلق مسائل کو خصوصی طور پر ان کی بیماریوں کے انتظام سے متعلق فیصلہ سازی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے کردار کی تعریف کی اور خصوصی طور پر کیپیٹل ہسپتال اسلام آباد میں خدمات انجام دینے والی خواتین ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے کردار کو سراہا۔ تقریب کا اختتام خواتین کے دن اور اینڈومیٹرائیوسس کی آگاہی کی یاد میں آگاہی واک کے ساتھ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔