تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ اذان سے گونج اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
انگلینڈ(نیوزی لینڈ)لارڈز کرکٹ گراونڈ میں رمضان ٹینٹ پراجیکٹ کے زیر اہتمام اوپن افطار میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جبکہ افطار میں مسلم کمیونٹی کے علاوہ مقامی غیر مسلم افراد کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ افطار سے قبل شرکا کو دین اسلام کی حقانیت اور روزے کی اہمیت سے متعلق آگاہ کیا گیا جبکہ اذان مغرب پر غیرمسلموں نے بھی کھجور سے افطار کیا۔اس موقع پر بانی و سی ای او رمضان ٹینٹ پراجیکٹ عمر صلاح کا کہنا تھا کہ اوپن افطار کا مقصد مختلف کمیونیٹیز کو قریب لانا ہے، دنیا بھر میں افطار پارٹیز کمیوٹیز کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
عمر صلاح نے کہا ونزر کاسل میں افطار کی اجازت دینے پر بادشاہ چارلس کے انتہائی شکر گزار ہیں، برطانیہ کی کثیر الثقافت معاشرہ قابل فخر ہے اور ہم اپنی کاوش کے ذریعے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انگلینڈ کی ٹیم کے کھلاڑی ثاقب محمود نے بھی افطار میں شرکت کی جبکہ اوپن افطار میں شرکت کرنے والوں نے مل کر افطار کرنے کے تجربہ کو شاندار قرار دیا۔ واضح رہے رمضان ٹینٹ پراجیکٹ کے زیراہتمام گزشتہ 13 برسوں سے ملک کے اہم مقامات پر افطار کا اہتمام کیا جارہا ہے جبکہ بادشاہ چارلس نے بھی گزشتہ ہفتہ اپنے شاہی محل کے دروازے مسلمانوں کیلئے کھول دیے تھے۔
راولپنڈی میں پڑوسی کی ہمسائے پر آرا مشین سے حملے کی کوشش
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: افطار میں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔