سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون، وفاقی کابینہ کی چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان اور نیشنل کمپیوٹر ایمرجینسی رسپانس ٹیکنیکل ٹیم/ کوآرڈینیشن سینٹر آف چائنا کے درمیان سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابنہ کا اجلاس وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا، کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد یہ وفاقی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس تھا۔ وزیراعظم نے نئے کابینہ اراکین کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں چینی ماڈل سے متعلق خدشات غلط ثابت، پاکستان چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وفاقی کابینہ کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے رمضان المبارک کے مہینے کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کابینہ کو آگاہ کیاکہ اسلام آباد کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹی کی کارکردگی انتہائی بہتر اور مؤثر رہی ہے۔
وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجیئس ایجوکیشن کو وزارت وفاقی تعلیم کا ملحقہ محکمہ بنانے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی سفارش پر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان اور نیشنل کمپیوٹر ایمرجینسی رسپانس ٹیکنیکل ٹیم/ کوآرڈینیشن سینٹر آف چائنا کے درمیان سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی۔
اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تحقیق، مشاورت اور تربیت کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مزید برآں اس مفاہمتی یادداشت کے تحت سائبر حملوں کو روکنے کے حوالے سے ہم آہنگی، پالیسی ڈویلپمنٹ، سائبر سیکیورٹی ڈرلز (cyber security drills), سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے انٹیلیجنس کے تبادلے، سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے استعداد میں بہتری اور آگاہی کا فروغ یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی کابینہ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی سفارش پر اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل ٹیلی کام یونین اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام، حکومت پاکستان کے درمیان آئی ٹی یو ایکسلیریٹر سینٹر کے قیام کے حوالے سے معاہدے کی منظوری دے دی۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کا نیشنل انکییوبیشن سینٹر اسلام آباد ایک آئی ٹی ایکسلیریٹر سینٹر کے طور پر کام کرےگا اور اس کی صلاحیت بڑھائیں جائے گی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت بحری امور کی سفارش پر سید جرار حیدر کاظمی کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت بحری امور کی سفارش پر کموڈور (آپس) رضوان علی منور کی بطور کمانڈینٹ، پاکستان میرین اکیڈمی، کراچی کی سیکینڈمینٹ کی مدت میں ایک سال توسیع کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت ترقی انسانی وسائل و سمندر پار پاکستانی کی سفارش پر انجینیئر سید مسرت حسین کو پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 20 فروری 2025 کو ہوئے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان اور چین کا قریبی اسٹریٹجک رابطے و ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 4 مارچ 2025 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک چین دوستی پاکستان تعاون چائنہ شہباز شریف مفاہمتی یادداشت وزیراعظم پاکستان وفاقی کابینہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک چین دوستی پاکستان تعاون چائنہ شہباز شریف مفاہمتی یادداشت وزیراعظم پاکستان وفاقی کابینہ وی نیوز سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں وفاقی کابینہ نے وزارت مفاہمتی یادداشت کی منظوری دے دی کی سفارش پر کے حوالے سے ٹیلی کام کرنے کی
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ