امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ حملے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں اور کئی دنوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے حوثیوں کی حمایت جاری رکھی تو "امریکہ اسے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرائے گا اور ہم نرمی نہیں برتیں گے!"

حوثیوں کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق، 13 شہری ہلاک اور 9 زخمی ہوئے، جبکہ صعدہ میں امریکی حملے میں مزید 11 افراد، بشمول 4 بچے اور 1 خاتون جاں بحق ہوئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، یہ یمن میں ایک وسیع فوجی آپریشن کا آغاز ہے، جس میں جنگی طیارے بحیرہ احمر میں موجود USS Harry S.

Truman ایئرکرافٹ کیریئر سے حملے کر رہے ہیں۔

حوثیوں نے امریکی حملوں کو "جنگی جرم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے جوہری مذاکرات پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن ایران نے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی