اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے کل ہونے والے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔۔

رپورٹ کے مطابق زرائع نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کا اپوزیشن لابی میں اجلاس ہوا جس میں اہم ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کے حوالہ سے غور کیا گیا۔

زرائع نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کی اکثریت نے اجلاس میں شرکت پر زور دیا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اجلاس میں شرکت کی بھرپور حمایت کی جب کہ پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کا کہنا تھا بانی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے۔

بعد ازاں تحریک انصاف نے 14 ارکان کی شمولیت کی فہرست دے دی جس کے مطابق عمر ایوب، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا کل قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ان کے علاوہ عامر ڈوگر، محمد بشیر خان، ثنا اللہ مستی خیل، علی محمد خان اور زبیر خان بھی شرکت کریں گے، شبلی فراز، علی ظفر، ہمایوں مہمند اور عون عباس شریک ہوں گے۔

ذرائع  کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کو کل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سیکرٹریٹ ملازمین کو کل چھٹی دے دی گئی، کمیٹی اراکین کے علاوہ تمام اراکین پارلیمنٹ کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی، کمیٹی اراکین کو خصوصی دعوت نامے پر پارلیمنٹ میں داخلہ دیا جائے گا،

ذرائع  کے مطابق میڈیا کوریج پر بھی کل پابندی عائد کر دی گئی، میڈیا نمائندوں کو بھی کل پارلیمان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ قومی سلامتی کی صورت حال پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، جس میں عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی  سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے  اجلاس کا 18 مارچ بروز منگل دن 11 بجے ہوگا۔ ماہ رمضان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا وقت دن گیارہ کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اِن کیمرہ منعقد ہو گا، جس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہو گا۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔ علاوہ ازیں متعلقہ اراکین کابینہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی ایڈوائس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کو ڈیڑھ بجے طلب کیا تھا، جس کا وقت بدل کر اب گیارہ بجے مقرر کردیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں شرکت شرکت کریں گے قومی اسمبلی کمیٹی کے کے مطابق

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف