افغانستان سے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلقات معمول پر لانے کی ضرورت ہے، افغانستان یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 57 حملہ ہوئے، وہاں تیزی سے بدامنی بڑھ رہی ہے، کے پی اس لیے جل رہا ہے کیونکہ ہماری اپنی پالیسی نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں جماعتِ اسلامی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ پریس کانفرنس میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ افغانستان سے تعلقات معمول پر لانے کی ضرورت ہے، افغانستان یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 57 حملہ ہوئے، وہاں تیزی سے بدامنی بڑھ رہی ہے، کے پی اس لیے جل رہا ہے کیونکہ ہماری اپنی پالیسی نہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بلوچوں کے تحفظات کو دور کرنا حکومت کی ذمے داری ہے، بلوچستان کے مسائل کو حل کرنا ہو گا، رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، چھوٹی صنعتوں کو ترقی دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔