ریڈ زون میں احتجاج روکنے پر 5 سالوں میں 1ارب35کروڑ 58 لاکھ روپے کے اخراجات، تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی میں ریڈ زون میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران احتجاج روکنے پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات پیش کردی گئیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے پر مجموعی طور پر 1 ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔وزارت داخلہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ:
2019-20 میں 15 کروڑ 77 لاکھ روپے،
2020-21 میں 9 کروڑ 61 لاکھ روپے،
2021-22 میں 27 کروڑ 79 لاکھ روپے،
2022-23 میں سب سے زیادہ 72 کروڑ 40 لاکھ روپے،
2023-24 میں 10 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ اخراجات آنسو گیس کے شیلز، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی خوراک اور وی آئی پی سیکیورٹی پر کیے گئے۔
مہرین بھٹو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ایک ہی سیاسی جماعت کے احتجاج پر اربوں روپے خرچ کیے گئے اور یہ صرف قیدی نمبر 804 کے لیے کیے جاتے ہیں۔
طلال چوہدری نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی، فورسز کی نقل و حرکت، کنٹینرز اور اہلکاروں کی خوراک پر یہ اخراجات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ رقم صحت اور تعلیم پر خرچ ہونی چاہیے تھی، لیکن بدقسمتی سے سیکیورٹی انتظامات پر خرچ ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاکھ روپے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔