اسلام آباد (خبر نگار) اپوزیشن اتحاد کا عید کے بعد امن و امان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق اے پی سی میں حکومت کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں کو دعوت دی جائے گی۔ اپوزیشن اتحاد نے تحریک کو منظم کرنے کیلئے مزید ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے دیں۔ اجلاس میں باقاعدہ طور پر اس تحریک کے بنیادی ڈھانچے کی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا سربراہی اجلاس تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر منعقد ہوا جس میں علامہ راجہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ، عمر ایوب، شبلی فراز، اسد قیصر، حامد رضا، ساجد ترین اور سائیں زین شاہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں باقاعدہ طور پر اس تحریک کے بنیادی ڈھانچے کی منظوری دی گئی اور اس کے نیچے ذیلی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی جن میں ایک رابطہ کمیٹی ہے جس کو اسد قیصر دیکھیں گے، دوسری کمیٹی تنظیمی معاملات اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ہے جس کی نگرانی حامد رضا کی ہوگی اور تیسری کمیٹی عید کے بعد ملک کی امن و سلامتی اور سیاسی حالات پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے لئے تشکیل دی گئی ہے جس کی ذمہ داری لطیف کھوسہ نے اٹھائی ہے اور دوسری جماعتوں سے بھی لوگ اس میں شامل ہیں۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی بحث ہوئی۔ خاص کر بلوچستان کے مسائل پر بی این پی کے ساجد ترین نے تفصیلی گفتگو کی۔ بلوچ عوام اور ریاست کے درمیان بڑھتی خلیج کو پاٹنے کے لئے تجاویز پیش ہوئیں اور ان کو منظوری بھی ملی۔ خیبر پی کے اور بلوچستان کے ایشوز پر اپوزیشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت میں بیٹھے جماعتوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا۔طاقت کے زور پر نہ ہی خیبر پی کے میں دہشتگردی کا کوئی پائیدار حل ڈھونڈا جا سکتا ہے اور نہ ہی بلوچستان میں۔ جبکہ سندھ کے عوام سے دریائے سندھ کے پانی کو لے کر ہم کسی بھی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے علاوہ ہم نے پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی میں شریک نہ ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے پیچھے یہی امر ہے کہ یہ جعلی حکومت اس مسئلے کے حل میں سرے سے سنجیدہ ہی نہیں۔علاوہ ازیں مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رہائشگاہ پر اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا۔ افطار ڈنر کی تقریب میں مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، لطیف کھوسہ، لیاقت بلوچ، اخوانزادہ حسین عاطف خان اور دیگر شریک ہوئے۔ اپوزیشن اتحاد سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد صورتحال پر

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 

مظفر آباد (نوائے وقت رپورٹ) آئی پی پی نے مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ سے اتحاد کر لیا اور آزاد کشمیر میں مشترکہ طور پر انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ آئی پی پی رہنما عون چودھری نے کہا ہے کہ کشمیر کے تحفظ و ترقی کیلئے اتحاد ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے