پلاٹوں کی الاٹمنٹ ، سی ڈی اے کے 4 افسرگرفتار، انکوائری شروع
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی کارروائی ، غیر متعلقہ لوگوں کو پلاٹ الاٹ کرنیوالے سی ڈی اے کے 4 افسر گرفتار کر لئے۔افسران نے اسلام آباد کے مختلف موضع میں رشوت کے عوض غیر متعلقہ لوگوں کو اربوں مالیت کے 43 پلاٹ الاٹ کئے تھے
ایف آئی اے نے گرفتار افسران کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔گرفتار ملزمان میں آصف علی خان، امداد علی، علی مصطفی اور ارشد محمود شامل ہیں ، گرفتار ملزمان سی ڈی اے میں بطور ایڈشنل ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسٹیٹ منیجمنٹ آفیسر اور اسسٹنٹ تعینات تھے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مجموعی طور پر 46 ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ، گرفتار ملزمان سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے ، دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واضح رہے سی ڈی اے سیکٹر ڈی تیرہ میں مشکوک شخص نے شناختی کارڈ پر اپنا نام تبدیل کرکے 22 پلاٹس اپنے نام کروا لئے تھے ، ہم انویسٹی گیشن کی ٹیم نے معاملے کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد پارلیمان میں سینیٹر پلوشہ خان نے معاملہ اٹھایا تھا۔
تیسرا ٹی 20: کیویز کو 9 وکٹوں سے شکست،حسن نواز نے 44 گیندوں پر شاندار سنچری بناڈالی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سی ڈی اے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔