Express News:
2026-06-03@03:49:11 GMT

بلوچستان کا اصل دشمن کون؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT

افغانستان میں طالبان کو حکومت دلا کر پاکستان نے کیا حاصل کیا؟ وہاں کی سرزمین کا کیا پاکستان کے خلاف استعمال ختم ہوگیا؟ کیا طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے سے روک دیا؟ اب تو دہشت گردی پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت کی حکومت نے شاید بغیرکسی منصوبہ بندی کے اور افغانوں کی پرانی پاکستان دشمنی کو سامنے رکھے بغیر فیصلہ کیا تھا۔

افغانستان نے تو قیام پاکستان کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ یہی نہیں وہ ایک عرصے تک پختونستان کے شوشے کی پشت پناہی کرتے رہے تھے اور بھارت سے دوستانہ مگر پاکستان سے دشمنوں جیسے تعلقات قائم رکھے تھے۔ ہم سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ طالبان کو افغانستان میں کسی طرح اقتدار تو دلا دیا مگر ان سیکچھ لیا نہیں۔

بس اسی غلطی کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ ہم نے غور ہی نہیں کیا تھا کہ تمام طالبان یکجا نہیں ہیں، وہ مختلف گروپس میں بٹے ہوئے ہیں، ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے بھی تمام طالبان گروہوں کے روابط تھے۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان کا فرض تھا کہ وہ انھیں پاکستان میں دہشت گردی سے باز رکھتے مگر وہ تو ان کا دفاع کرنے لگے اور یہ جواز پیش کرنے لگے کہ انھوں نے ان کی امریکا کے خلاف جنگ میں ساتھ دیا ہے، اس لیے وہ انھیں افغانستان سے نہیں نکال سکتے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ایکشن لے سکتے ہیں۔

بس جب ہی پاکستانی حکومت کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ افغانستان سے اشرف غنی حکومت کے خاتمے اور امریکی فوج کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ اس کے بعد بھی پاکستان کے دشمن ہی رہیں گے مگر ہم نہ جانے کیوں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے حق میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئے، ہم نے انھیں پاکستان میں آباد ہونے کی اجازت بھی دے دی جس سے انھیں پاکستان میں دہشت گردی کرنے میں مزید سہولت میسر آگئی۔

 بھارت بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت کے ختم ہونے اور وہاں بھارت کے خلاف عوامی لہر سے بہت پریشان تھا ، ایسے میں بھارت نے افغانستان کے طالبان کے قریب جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے خارجہ سیکریٹری کو افغانستان بھیج کر نئے تعلقات پیدا کر لیے حالانکہ تعلقات سے بھارت کوکوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا مگر محض پاکستان کو نشانہ بنانے کا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔

پاکستان شروع سے کشمیریوں کی آزادی کا حمایتی ہے اور بھارت کشمیریوں کی حمایت کا پاکستان سے بدلہ بلوچستان میں دہشت گردی پھیلا کر لے رہا ہے۔ خوش قسمتی سے ابھی چند سال سے وہاں پہلے جیسی دہشت گردی نہیں ہو رہی تھی چنانچہ اب اس نے طالبان سے گٹھ جوڑ کرکے بلوچستان میں پھر سے دہشت گردی کو تیز سے تیز ترکرنے کی کوشش کی ہے۔

بھارت کا طالبان سے یہ گٹھ جوڑ یقینا اجیت دوول کی سوچ اور چابکدستی کا شاہکار ہوگا ۔ امریکا میں مقیم سکھ لیڈر گریتونت سنگھ نے جعفر ایکسپریس حملے کا ذمے دار بھارت اور خصوصاً اجیت دوول کو قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں مودی حکومت کی اندرونی گھناؤنی سیاست کا ذمے دار امیت شا ہے اور بیرونی دہشت گردانہ کارروائیوں کا انچارج اجیت دوول ہے۔

ان دونوں کے گٹھ جوڑ سے ہی بھارتی مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری ہے اور صرف پڑوسی ممالک ہی نہیں دنیا بھر میں بھارت کے حق میں دہشت گردی جاری ہے تاکہ وہ بھارت سے مرعوب رہیں اور بھارت کو ایک طاقتور ملک مانیں۔

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کبھی بھی بھارت کی طاقت اور دہشت گردی سے مرعوب نہیں ہوا ہے اور اس کے جارحانہ عزائم کے خلاف ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا رہا ہے۔ جہاں تک بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کا تعلق ہے اس وقت اسے طالبان حکومت کا سہارا حاصل ہوگیا ہے۔ تاہم طالبان کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت ان کا ازلی دشمن ہے، وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنا تو کجا اس کے خلاف مہم چلاتا رہا ہے، وہ طالبان حکومت کو انتہا پسند کٹر مذہبی حکومت قرار دے کر امریکا اور یورپی ممالک کو ان کے خلاف بھڑکاتا رہا ہے تاہم اب طالبان حکومت کا اسے گلے لگانا معنی خیز ہے۔

خبریں آ رہی ہیں کہ حقانی گروپ طالبان حکومت سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے کیا پتا اس کی وجہ بھارت ہی ہو؟ تاہم طالبان حکومت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جس کی وجہ سے انھیں افغانستان میں کامیابی ملی حالانکہ اس سلسلے میں پاکستان کو امریکا اور اس کے حواری ممالک سے دشمنی مول لینا پڑی۔ پاکستان ہی اسے عالمی برادری سے تسلیم کرانے کی مہم چلاتا رہا اور عرب ممالک سے اسے مالی امداد دلائی۔

آیندہ بھی وہ پاکستان سے دشمنی مول لے کر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ بی ایل اے اور دیگر بھارت کے ایما پر متحرک دہشت گرد تنظیمیں اپنے ہی عوام اور اپنے ہی صوبے کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایک طرف وہ بلوچستان کی پسماندگی کا ذکر کرتے نہیں تھکتیں اور خود ہی گوادر جیسے خوشحالی کے بڑے پروجیکٹ پر حملہ آور ہوتی ہیں۔

یہی لوگ وہاں سڑکیں نہیں بننے دے رہے، صنعتیں نہیں لگنے دے رہے، کاروبار کو پنپنے نہیں دے رہے، سرمایہ کاروں پر گولیاں برسا رہے ہیں، ٹرانسپورٹ کو چلنے نہیں دے رہے حتیٰ کہ ریل گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ عوامی ایجنڈا تو ہرگز نہیں ہو سکتا یہ تو یقینا دشمن کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے چنانچہ کہنا پڑے گا کہ یہی لوگ دراصل بلوچستان کی پسماندگی کے ذمے دار ہیں اور بلوچ قوم کے اصل دشمن ہیں۔ تاہم وہ حریت پسندی کا لبادہ اوڑھ کر بلوچ قوم کو زیادہ دیر تک دھوکا نہیں دے سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت پاکستان میں حکومت کو کے خلاف دے رہے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد