قصور:

لیسکو حکام قصور کے بجلی چوروں  کے آگے بے بس ہوگئے، ایک سال میں قصور میں  37 ارپ 20 کروڑ  70 لاکھ روپے کی بجلی چوری ہوگئی۔

تفصیلات  کے مطابق پاکستان  کی سب سے بڑی پاور  ڈسٹری  بیوشن  کمپنی لیسکو  کیلئے قصور درد سربن گیا ہے۔ لیسکو کے 7 سرکلز میں سے سب سے زیادہ  بجلی چوری  قصور سرکل میں کی جارہی ہے۔

سیاسی مداخلت  اور بااثر افراد  کی پشت پناہی کے باعث لیسکو افسران بجلی چوروں کیخلاف کارروائی نہیں کر پاتے، اگر کوئی افیسر دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بااثر بجلی چوروں کیخلاف  کارروائی  کرتا ہے تواسے مقامی اراکین اسمبلی کی طرف سے شدید مخالفت  اور مخاصمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: جواد احمد کی لیسکو حکام کے ساتھ جھگڑے کی ویڈیو سامنے آگئی

بجلی چوروں کی طرف سے درجنوں  افسران و اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاچکی ہے۔

لیسکو دستاویزات کے مطابق قصور سرکل میں بجلی چوری کی وجہ سے پوری کمپنی کی کارکردگی  متاثر  ہورہی ہے۔

لیسکو کے قصور سرکل میں ایک سال کے دوران 37 ارب،20 کروڑ،70 لاکھ روپے کی بجلی چوری ہوئی۔

قصور رورل ڈویژن میں 8 ارب 64 کروڑ، 80 لاکھ، پھول نگر ڈویژن میں 9 ارب 62 کروڑ، 90 لاکھ، چونیاں ڈویژن میں 9 ارب،38 کروڑ، 70 لاکھ، قصور سٹی ڈویژن میں 5 ارب، 66 کروڑ، 70 لاکھ اور کوٹ رادھا کشن ڈویژن میں 2 ارب،87 کروڑ، 70 لاکھ روپے کی بجلی چوری کی گئی۔

مزید پڑھیں: لاہور: بجلی چوری پکڑے جانے پر ملزمان کا لیسکو ٹیم پر حملہ

ایک سال کے دوران  بجلی چوروں کیخلاف  26 ہزار،9 سو 87 مقدمات درج کیے گئے۔

بجلی چوروں کو 84 کروڑ، 89 لاکھ، 63 ہزار روپے کے ڈی بل چارج کیے گیے لیکن اس میں سے صرف 33کرور 68 لاکھ، 67 ہزار 911 روپے وصول کیے جاسکے۔

قصور سرکل کی ریکوری محض 40 فیصد رہی۔

ذرائع کے مطابق قصور سرکل میں بجلی چوروں کوبا اثر سیاسی  خاندانوں  کی سرپرستی حاصل ہے، یہی وجہ ہے بجلی چوروں کی نشاندہی کے باوجود انتظامیہ ان کیخلاف کارروائی میں لیسکو حکام کا ساتھ نہیں دیتی۔

مزید پڑھیں: سرکاری ادارے لیسکو کے 14ارب 12کروڑ سے زائد کے نادہندہ

جس کی وجہ سے بجلی چوروں پر مقدمات درج کروانے میں لیسکو افسران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا  ہے اور اگر مقدمہ درج ہو بھی  جائیں تو ان کو پکڑ ا نہیں جاسکتا۔

 لیسکو ذرائع کے مطابق اگر قصور کے بجلی چوروں کو سیاس پشت پناہی نہ ہوتو قومی خزانے کو سالانہ 40 ارب روپے کی بجلی چوری سے ہونے والے نقصان  سے بچایا جا  سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روپے کی بجلی چوری قصور سرکل میں بجلی چوروں کی لیسکو حکام ڈویژن میں کے مطابق ایک سال

پڑھیں:

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے.

اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.

(جاری ہے)

آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے.

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے .

حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی.

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں. 

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف