توہین رسالتﷺ کیس میں عدالت کا بڑا فیصلہ، 5 مجرموں کو پھانسی،عمر قید اور 65 لاکھ روپے جرمانے کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
توہین رسالت ﷺ اور توہین قرآن پاک کیس میں راولپنڈی کی مقامہ عدالت نے بڑا فیصلہ دیتے ہوئے عدالت 5 مجرمان کو پھانسی ،عمر قید اور 80 سال قید سخت سنا دی۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پانچوں مجرمان کو مجموعی 65 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، مجرمان محمد ارسلان، علی عباس، فیصل ریحان، خرم افضال اور زنیر سکندر کو سزا سنائی گئی۔
مجرمان کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم نے مقدمہ درج کیا تھا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق ایوب نے فیصلہ سنا دیا۔
فیصلہ بعد پانچوں مجرمان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ مجرمان نے گھناؤنا جرم کیا ہے یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں، مجرمان کو اس وقت تک پھانسی پھندا پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت واقع نا ہو۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت انتہائی سخت سیکیورٹی تھی جبکہ بڑی تعداد میں وکلا اور شہری موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مجرمان کو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔