لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایازخان کا کہنا ہے کہ حکومت کی پرفارمنس سے یقین کریں آئی ایم ایف حیران ہے اور ہم ساتھ پریشان بھی ہیں، ہم صرف حیران نہیں ہیں، اتنی اچھی پرفارمنس ہو گئی ہے، اس سے زیادہ ہمیں اور کیا چاہیے کہ قسط لے دی اور مبارک دے دی۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا نقطہ جو نہیں سمجھ آ رہا کہ معیشت، باقی تو چیزیں ہماری ہیں ہی گڑبڑ،تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ جو کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہے، اگر ہم اسی طرح آئی ایم ایف کی شرائط مانتے رہے تو پتہ نہیں کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو یا نہ ہو ہمارا اور آپ کا آخری پروگرام جلدی ہو جائے گا، جو غریب لوگ ہیں وہ جلد ی نمٹ جائیں گے، ملک کے اندر ہر معاملے میں طبقاتی تفریق ہے۔ 

تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ یہ کہنا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام سے پاکستان لانگ ٹرم اکنامک اسٹیبیلیٹی اچیو کر لے گا تو میرے خیال میں ہمارے جو ماضی کے تجربات ہیں، ماضی کو دیکھتے ہوئے مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہو گا، پاکستان آئی ایم ایف کا موسٹ لوئل کسٹمر مانا جاتا ہے۔ 

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ بات سمپل سی ہے کہ جب ہم نے سات ارب ڈالر کا یہ قرضہ لیا تھا جس میں سے 1.

3ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط ہمیں ملی اور دوسری کا ریویو ہو کر آج اس کی اسٹاف لیول کی آگئی ہے، ابھی تو آئی ایم ایف بورڈ نے بیٹھنا ہے، اب کلائمنٹ چینج پر ہمیں ایک ارب ڈالر ملنے جا رہے ہیں تو مجموعی طور پر ہماری جو اکنامک پوزیشن ہے اس میں استحکام تو آئے گا۔

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ آئی ایم ایف سے انھوں نے قرضہ تو لینا ہے ابھی بھی نعرہ لگائیں گے کہ کشکول توڑ دیں گے، آئی ایم ایف خود کہہ رہا ہے کہ گروتھ اوریئنٹڈ میکانزم ایسا بنایا جائے کہ گروتھ بھی ساتھ میں ہو، گروتھ ہو گی تب آپ کی جی ڈی پی کی گروتھ بھی بڑھے گی اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں گے ورنہ اسی طرح تو قرضوں پر رہیں گے کہ قرضے لیتے رہیں گے، عوام پر قرضہ چڑھتا رہے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ ا ئی ایم ایف تجزیہ کار نے کہا کہ

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟