لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں دہشت گرد حملے کے پی بارڈر سے ٹی ٹی پی کے لوگ کر رہے ہیں۔ کے پی حکومت کو سی ٹی ڈی کے لیے 600 ارب ملے، یہ فنڈز کہاں گئے؟ اب پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کو نائٹ ویژن کیمرے اور جدید اسلحہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں ادویات اب بند کمروں میں نہیں، عوام کی رسائی میں ہوں گی، جناح ہسپتال میں کی گئی اصلاحات صحت کے نظام میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر  میں پریس کانفرنس  کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت اور سکیورٹی ادارے متحرک ہیں۔ تونسہ لاکھانی چیک پوسٹ پر ہونے والا حملہ رواں سال کا 31 واں حملہ تھا، جس میں پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ڈی جی خان کے آر پی او کے مطابق دہشت گرد کے پی کے بارڈر سے حملہ آور ہوتے ہیں اور سی ٹی ڈی ان کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔ لاہور اور راولپنڈی سے گرفتار دہشت گردوں سے ملنے والی معلومات سے مزید کارروائیوں میں مدد ملے گی۔ جناح ہسپتال کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے ناقص انتظامات پر ایم ایس اور پرنسپل کو برطرف کر دیا۔ہسپتال میں دوائیوں کی فراہمی کے لیے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں، ڈاکٹرز کا الیکٹرانک ڈیوٹی روسٹر متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ مریضوں کو وقت پر علاج فراہم ہو سکے۔ہسپتالوں میں اعلاناتی نظام متعارف کرایا جائے گا، جس میں مریضوں کو دوائیوں اور دستیاب ڈاکٹروں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ ہسپتالوں میں ایک سو سے زائد ادویات آویزاں کر دی گئی ہیں، جو باہر سے نہیں منگوائی جا سکیں گی۔ہر مریض کا ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ طبی سہولیات میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔کے پی حکومت دہشت گردی سے شدید متاثر ہے۔وزیراعلیٰ گنڈا پور نے اس معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔پنجاب میں اگر سکیورٹی فورسز کو جدید بکتر بند گاڑیاں، سنائپرز اور ہتھیار نہ دئیے جاتے تو دہشت گردوں کا مقابلہ ممکن نہ ہوتا۔ تحریک انصاف والے طالبان کے بھائی ہیں، ان کو کبھی کوئی تھریٹ الرٹ  نہیں آتی۔ حکومت پنجاب کے یہ اقدام عوام کے تحفظ اور طبی سہولیات کی بہتری کے عزم کی واضح مثال ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی نے کہا

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر