بجلی نرخ اور مہنگائی میں کمی نے اسٹاک ایکسچینج کو تگڑا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
بجلی کے نرخ اور مہنگائی میں کمی پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ریکارڈ بلندی پر بند ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سال کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ قائم
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو 100 انڈیکس 1131 پوائنٹس اضافے سے 118938 پر بند ہوا ہے۔
100 انڈیکس کاروباری دن میں 1671پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ بازار میں 42 کروڑ شیئرز کے سودے 28 ارب روپے میں طے ہوئے۔
مارکیٹ کیپٹلائزیشن 116 ارب روپے بڑھ کر 14491 ارب روپے ہے۔
دوسری جانب انٹربینک تبادلہ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کا بھاؤ 280 روپے 56 پیسے ہے۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ 8 پیسے اضافے سے 281.
مزید پڑھیے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا
واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔
اب تمام گھریلو صارفین کے لیے بجلی 34 روپے 37 پیسے فی یونٹ ہوگی۔ صنعتی صارفین کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی ہوگی یوں صنعتی صارفین کے لیے فی یونٹ 40 روپے 60 پیسے ہوگا۔
علاوہ ازیں پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مارچ 2025 میں مہنگائی کی شرح 0.7 فیصد رہی جو گزشتہ ماہ 1.5 فیصد تھی۔
یہ شرح ایک سال پہلے یعنی مارچ 2024 میں 20.7 فیصد تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مزید پڑھیں: مہنگائی کی کمر مزید ٹوٹ گئی، مارچ میں مثبت نتائج کا مشاہدہ
لہٰذا بجلی کی قمیت میں کمی کے اعلان اور مہنگائی میں خاطر خواہ کمی کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج ریکارڈ اضافہ بجلی کی قیمت میں کمی پاکستان اسٹاک ایکسچینج مہنگائی میں کمی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج ریکارڈ اضافہ بجلی کی قیمت میں کمی پاکستان اسٹاک ایکسچینج مہنگائی میں کمی پاکستان اسٹاک ایکسچینج مہنگائی میں بجلی کی فی یونٹ کے لیے
پڑھیں:
مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔
پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔
پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔
ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ