سبزی منڈی میں شفٹنگ الاٹیز سے بھی ٹرانسفر فیس کی وصولی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-17
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سبزی منڈی میں مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے شفٹنگ الاٹیز سے بھی ٹرانسفر فیس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،جبکہ دوسری جانب دکانوںکی ٹرانسفر کیلئے 350روپے فی اسکوائر فیٹ کے حساب سے ٹرانسفر کا عمل جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق سبزی منڈی میں دکاندار مارکیٹ کمیٹی کی جانبص سے ٹرانسفر کیلئے زائد فیس کی وصولی پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں،سبزی منڈی میں دکانوںکی ٹرانسفر کیلئے 350روپے فی اسکوائر فیٹ کے حساب سے فیس وصول کی جارہی ہے ،اس سے قبل سبزی منڈی میں دکانوںکی ٹرانسفر فیس محض2ہزار روپے تھی جبکہ ایگرو پراسیسنگ زون میں ٹرانسفر فیس 5ہزار روپے ہے۔سبزی منڈی میں الاٹیز کو دکانوںکی ٹرانسفر فیس کے ساتھ ساتھ شیڈز پر بھی350روپے فی اسکوائر فیٹ ادا کرنا ہوں گے جبکہ یو ٹیلیٹی چارجز کی مد میںبھی20روپے فی اسکوائر فیٹ علیحدہ سے دینے ہوں گے ،مارکیٹ کمیٹی نے دکانوںکی ٹرانسفر کیلئے فارم کی فیس 3ہزار روپے اور وکیل کی فیس15ہزار روپے مقرر کی ہے ،سبزی منڈی کے تاجر پہلے ہی اس تمام تر عمل کو مال بٹورنے کی پریکٹس قرار دے چکے ہیں۔ملیر فریش فروٹ اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر محمد جاوید کے مطابق اب سبزی منڈی مارکیٹ کمیٹی نے شفٹنگ الاٹیز سے بھی ٹرانسفر فیس کی وصولی شروع کردی ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا،دکاندار اپنی ہی دکانوں کی الاٹمنٹ کیلئے ٹرانسفر فیس کیوں ادا کریں؟انہوںنے مزید بتایا کہ اس ضمن میںمارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ شفٹنگ الاٹیز کو ٹرانسفر فیس ریفنڈ کردی جائیگی،تاہم اس ضمن میں دکانداروں کو کوئی نوٹیفکیشن مہیا نہیںکیا گیا ہے ،محمد جاوید نے مزید بتایا کہ ٹرانسفر کی مد میں اس قدر رقم کی وصولی اور شفٹنگ الاٹیز سے فیس وصول کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ،اور اگر اسے فوری طور پر نہیںروکا گیا تو تاجر حضرات عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دکانوںکی ٹرانسفر ٹرانسفر کیلئے سبزی منڈی میں مارکیٹ کمیٹی ٹرانسفر فیس ٹرانسفر کی کی وصولی فیس کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔