اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے ہی بہتر عدالتی اصلاحات ممکن ہے، چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
نظام انصاف میں بار ایسوسی ایشن کے کردار پر زور دیتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے ہی بہتر نتائج کی حامل عدالتی اصلاحات ممکن ہے۔
عدالتی خدمات کی بہتری کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ آج کی نشست نیشنل جوڈیشل کمیٹی کی آئندہ میٹنگ کے ایجنڈے پر رائے حاصل کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے سلسلے میں سے ایک تھی۔
یہ بھی پڑھیں:
مشاورتی اجلاس میں عدالتی اصلاحات، سستے انصاف، عدالتی نظام کی بہتری کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا، سیشن کا مقصد خاص طور پر اصلاحات اور سستے انصاف، قانونی چارہ جوئی کی سہولت اور ملک کے نظام انصاف کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے ایک مربوط پالیسی اپروچ کے بارے میں شرکا کی رائے حاصل کرنا تھا۔
اجلاس میں اٹارنی جنرل منصور اعوان، سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹس خواجہ حارث، فضل الحق عباسی، کامران مرتضیٰ، فیصل صدیقی، سپریم کورٹ بار کے منیر پراچہ اور احمد فاروق ایڈووکیٹ سمیت جوڈیشل اکیڈمی کے سربراہ حیات علی شاہ اور سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن سیدہ تنزیلہ صباحت نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر آئینی بینچ کا آئندہ 2 سماعتوں پر فیصلہ دینے کا عندیہ
شرکا کو نیشنل جوڈیشل کمیٹی کے مجوزہ ایجنڈے کے بارے میں بتایا گیا جس میں نافذ شدہ گمشدگیوں کے معاملات پر ادارہ جاتی ردعمل، کمرشل لٹیگیشن کوریڈور، ڈبل ڈاکٹ کورٹ ریجیم، عدالت سے منسلک ثالثی کی انسٹیٹیوشنلائزیشن، ضلعی ماڈل عدالتی عدالت کا قیام اور ضلعی عدلیہ کے لیے بھرتی کے معیاری طریقہ کار شامل تھے۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق مشاورتی اجلاس میں شرکا نے اپنی بصیرت، مہارت اور تجاویز کا تبادلہ کیا انہوں نے انصاف کی بہتر اور موثر فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنے پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا۔
چیف جسٹس نے شرکا کی مشاورت کو سراہتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بامقصد پیش رفت ایسے تعاون سے ہی ممکن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیک ہولڈرز جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس سیدہ تنزیلہ صباحت سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن مشاورتی اجلاس نیشنل جوڈیشل کمیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیک ہولڈرز جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس سیدہ تنزیلہ صباحت سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن مشاورتی اجلاس نیشنل جوڈیشل کمیٹی مشاورتی اجلاس اسٹیک ہولڈرز چیف جسٹس کے لیے
پڑھیں:
سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
ہر سال 24 جولائی کو دنیا بھر میں سیلف کیئر ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا روزمرہ کی دیگر ذمے داریوں کو نبھانا۔ اس تاریخ کا انتخاب بھی ایک خاص پیغام دیتا ہے کہ انسان کو اپنی دیکھ بھال دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق خود سے محبت اور اپنی ضروریات کو نظرانداز نہ کرنا ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہر روز اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے، تاہم سیلف کیئر ڈے اس عزم کی تجدید کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی اور ذہنی فلاح کو بھی ترجیح دیں۔
خود کو وقت دیجئے
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے مخصوص کریں، چاہے وہ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران اپنی پسند کی سرگرمی اختیار کریں، جیسے کوئی کتاب پڑھنا، پسندیدہ ویب سیریز دیکھنا، چہل قدمی کرنا یا خاموش ماحول میں وقت گزارنا۔ اس معمول سے ذہنی سکون میں اضافہ اور روزمرہ کی تھکن میں کمی آ سکتی ہے۔
متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک
غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا بھی خود کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور اناج پر مشتمل غذا نہ صرف جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ توانائی میں اضافہ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
جسمانی سرگرمیوں کےلیے وقت نکالیے
جسمانی سرگرمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش یا ہلکی پھلکی جسمانی مشقت نہ صرف جسمانی فٹنس اور قوتِ برداشت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اگر روزانہ ورزش ممکن نہ ہو تو کم از کم اس دن کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور نکالیں۔
مناسب اور پرسکون نیند لیجئے
مناسب اور پرسکون نیند کو بھی اچھی صحت کی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق معیاری نیند جسم کو بحال کرنے، دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور روزمرہ کی تھکن دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے معمول کو بہتر بنانا بھی سیلف کیئر کا اہم حصہ ہے۔
مراقبہ اور یوگا کی مشقیں
ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور یوگا جیسی سرگرمیاں بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی مشقیں ذہنی یکسوئی پیدا کرنے، اضطراب کم کرنے اور انسان کو زیادہ پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کسی عیش و آرام کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے مستقل معمول کا حصہ بنا کر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔