10 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا پلان طلب، سٹیشن اپ گریڈ ہوں گے: وزیر ریلوے
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ریلوے کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ 10 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے پلان طلب کیا ہے۔ لاہور کینٹ ریلوے سٹیشن پر فریٹ ٹرین کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے ہمارا سٹریٹجک اثاثہ ہے۔ ریلوے کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، تمام سٹیشنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ریلوے میں جو اہداف طے کیے تھے وہ حاصل کرنے ہیں، چھوٹی ٹرینیں درآمد کی جائیں گی جو چھ ماہ میں پاکستان پہنچ جائیں گی اور انہیں بھی روٹس پر چلایا جائے گا، کوشش ہے کہ فریٹ ٹرینوں کی تعداد اس سال دگنی کر دیں۔ ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا 10 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیلئے پلان طلب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا لاہور اور راولپنڈ ی سٹیشن کی ذمے داری حکومت پنجاب نے لے لی ہے اور وہ ان سٹیشنوں کو دنیا کے جدید ترین ریلوے سٹیشنوں کے ہم پلہ بنائے گی۔ پنجاب حکومت کے تعاون سے ریلوے زمینوں کو قبضوں سے واگزار کرائیں گے اور پنجاب بھر میں ریلوے لائنوں کے ساتھ شجر کاری کی جائے گی۔ ریلوے کے 14 سکول آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں جس سے ان سکولوں کے معیار میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے 8 ہسپتال بھی آؤٹ سورس کیے جائیں گے۔ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ اور دیگر اقدامات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔