پاکستان کا عالمی برادری سے جائز مطالبہ!
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
آج کا پاکستان جن سنگین اور گمبھیر مسائل میں گرفتار ان میں دہشت گردی کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ملک میں پائیدار بنیادوں پر امن و امان قائم کیے بغیر قومی معیشت کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی سیاسی استحکام آ سکتا ہے۔ ملک کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبرپختونخوا ان دنوں بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشت گرد گروپوں نے بلوچستان اور کے پی کے ،کے مختلف علاقوں میں اپنے خفیہ ٹھکانے قائم کیے جہاں سے وہ وقفے وقفے سے مذکورہ صوبوں میں اپنی مذموم کارروائیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین سالوں کے دوران دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں میں خاصی تیزی پیدا کر رکھی ہے۔ پاک فوج کے بہادر جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔
آپریشن ضرب عضب سے لے کر رد الفساد تک متعدد آپریشن میں سیکڑوں دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا جا چکا ہے۔ آرمی پبلک اسکول کے پی کے سے لے کر جعفر ایکسپریس بلوچستان پر حملے تک دہشت گردوں کے ہر منصوبے کو پاک فوج نے ناکام بنایا۔ فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اگلے دنوں کورکمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان میں کسی کو امن میں خلل نہیں ڈالنے دیں گے، ہر قیمت پر بلا تفریق دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں تمام ادارے اپنے تعاون کو یقینی بنائیں۔
پشاور میں16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جس کے بعد ملک گیر سطح پر دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں ملک میں قدرے امن قائم ہوگیا تھا۔ تاہم گزشتہ دو تین برس کے دوران دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 163 ملکوں میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان دوسرے نمبر پر آگیا ہے جو بلاشبہ لمحہ فکریہ ہے۔ مسلسل کارروائیوں اور مختلف آپریشن کے باوجود ملک کے دو اہم صوبوں کے پی کے اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دہشت گرد عناصر عام آدمی سے لے کر سرکاری تنصیبات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے باعث ملک کے عوام میں بے چینی اور اضطراب کا پایا جانا ناقابل فہم نہیں ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے بڑی سنجیدگی سے غور و فکر کیا گیا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون پر پوری یکسوئی اور ثابت قدمی سے عمل درآمد کریں گے۔فورم نے ملک خصوصاَ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں سرگرم ملک دشمن قوتوں، منفی اور تخریبی عناصر اور ان کے پاکستان مخالف اندرونی اور بیرونی سہولت کاروں کی سر گرمیوں اور اس کے تدارک کے لیے کیے جانے والے متعدد اقدامات پر بھی غور کیا۔’پاک فوج عوام کی غیر متزلزل حمایت سے انسداد دہشت گردی کے لیے قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔
فوج ایک منظم ادارہ ہے جسکے ہر فرد کی پیشہ ورانہ مہارت اور وفاداری صرف ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔‘ آرمی چیف نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کو یقینی بنائیں۔دہشت گردی کے حوالے سے ملک کو جن چیلنجز اور مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اس مکمل تدارک کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسباب و عوامل کا بغور جائزہ لیا جائے۔ صوبے کے عوام کے دیرینہ مسائل اور ان کی محرومیوں کا ازالہ کر کے انھیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سیاسی مشاورت کا عمل بھی شروع کیا جائے۔
صدر مملکت آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف منفی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وہاں سیاسی مشاورت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے وہاں کی مقامی سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر ناراض بلوچوں کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ کلبھوشن یادیوکی صورت میں بھارت کی دراندازی اور افغانستان سے فتنہ الخوارج کے شرپسندوں کی کڑیاں ملنا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان نے حکومتی سطح پر باقاعدہ افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے لیکن اب تک اس مطالبے کے کوئی خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ پاکستان نے اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے پاس اربوں ڈالر مالیت کا امریکا کا چھوڑا ہوا، اسلحہ موجود ہے جسے وہ پاک آرمی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عالمی برادری کو پاکستان کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے یہاں امن کا قیام خطے میں امن کے مترادف ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی خطے کے امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہاں قیام امن کے لیے امریکا و اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے بلوچستان میں دہشت گردی کے کے خلاف
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں