جج ہمایوں دلاور کیخلاف سوشل میڈیا مہم کیس؛ جسٹس انعام امین کی سماعت سے معذرت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جج ہمایوں دلاور کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس میں جسٹس انعام امین نے سماعت سے معذرت کرلی۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا صدیق انجم کی عبوری ضمانت کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجا انعام امین منہاس نے کیس سننے سے معذرت کرلی اور ریمارکس دیے کہ وہ اس معاملے میں پہلے ہی اخراجِ مقدمہ کا فیصلہ دے چکے ہیں، اس لیے مزید سماعت نہیں کر سکتے۔ جسٹس انعام امین نے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوانے کی ہدایت کر دی۔
سونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں ایک بار پھر مہنگا، فی تولہ قیمت کہاں پہنچ گئی؟
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دینے کے حوالے سے فائل چیف جسٹس کو ارسال کر دی ہے۔
یاد رہے کہ صدیق انجم کی عبوری ضمانت کی درخواست اس سے قبل سیشن عدالت نے خارج کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔