حافظ نعیم کا فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے ملک بھر میں 22 اپریل کو شٹرڈاون ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے ملک بھر میں 22 اپریل کو شٹرڈاون ہڑتال کا اعلان کردیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل پر غزہ مارچ منعقد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔
غزہ مارچ سے خطاب میں امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے، اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹرکی دھجیاں اڑائی ہیں، اسرائیل آج بھی حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکمران اسرائیلی مظالم کے خلاف آوازبلندکریں، غزہ میں بربریت سے مغرب کے رہنماوں کا چہرہ بے نقاب ہوگیا، امریکا میں بھی 50 فیصدلوگ فلسطین کے حامی ہیں، دنیا کا بچہ بچہ اہل غزہ سے اظہاریکجتی کررہا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اسرائیل کی مذمت کریں۔
ان کیا کہنا تھاکہ لیاقت علی خان کو اسرائیل تسلیم کرنے کا کہا گیا لیکن لیاقت علی خان نے کہا کہ ہماری بنیاد برائے فروخت نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے 22اپریل کو ملک بھر میں شٹرڈاون ہڑتال کا اعلان کیا اور کہا کہ فسلطینیوں سے اظہاریکجہتی کریں گے، فلسطینی قیادت سے اس کی توثیق حاصل کرلی ہے، دیگر ممالک کی تحریکوں سے بھی بات کریں گے اور اس ہڑتال کو گلوبل سٹرائیک بنا دیا جائے۔
ان کا کہنا تھاکہ یہ کسی پارٹی کی ہڑتال نہیں ہے، یہ فلسطینیوں کیلئے آواز ہوگی ہم ایک دن اپنا کاروبار بند کریں گے، کشمیر سے گوادر تک اور پورا ملک ہڑتال کرکے بتائے گا یکجہتی کس کو کہتے ہیں۔
شارجہ کی رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے ایک پاکستانی جاں بحق
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حافظ نعیم
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔