(ن) لیگ، پی پی، پی ٹی آئی غزہ کیلئے آواز اٹھائیں، امریکا و اسرائیل کی مذمت کریں، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
یکجہتی غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ امریکا کے غلاموں کے خلاف تحریک کی قیادت کراچی کرے گا اور ہم کامیابی حاصل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت سمیت بین الاقوامی برادری خاموش ہے، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی غزہ کیلئے آواز اٹھائیں اور امریکا و اسرائیل کی مذمت کریں، انہوں نے نے غزہ میں جاری جارحیت اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 22 اپریل کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں شاہراہ فیصل پر عظیم الشان یکجہتی غزہ مارچ میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے تحریک کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ امریکی اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک کو جاری رکھیں۔ اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اگلے مرحلے میں بچوں کا ایک الگ مارچ کیا جائے گا، 18 اپریل کو ملتان، 20 اپریل کو اسلام آباد میں غزہ مارچ ہوگا، اسلام آباد میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ 22 اپریل کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس کی فلسطینی قیادت سے بھی توثیق لی ہے، عالم اسلام کی دیگر تنظیموں سے بھی اس روز ہڑتال کی بات کریں گے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ 22 اپریل کو پورے ملک میں کاروبار بند کرکے غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی خطوط لکھ رہا ہوں، پوری دنیا میں امریکا کی غلاموں کے خلاف تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے غلاموں کے خلاف تحریک کی قیادت کراچی کرے گا اور ہم کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فسلطین میں بچوں اور خواتین کا قتل کر رہا ہے، اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے، عالمی برادری کی اسرائیلی مظالم پر خاموشی افسوسناک ہے۔
مرکزی امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دھجیاں اڑائی ہیں، اسرائیل آج بھی حماس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کریں، غزہ میں بربریت سے مغرب کے رہنماؤں کا چہرہ بے نقاب ہوگیا، امریکا میں بھی 50 فیصد لوگ فلسطین کے حامی ہیں، دنیا کا بچہ بچہ اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کر رہا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اسرائیل کی مذمت کریں۔ حافظ نعیم ے کہا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو اسرائیل تسلیم کرنے کا کہا گیا، لیاقت علی خان نے کہا کہ ہماری بنیاد برائے فروخت نہیں ہے، اہل پاکستان کے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم نے نے کہا کہ انہوں نے اپریل کو کریں گے کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔