این آئی سی وی ڈی میں بدانتظامیاں عروج پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
موجودہ سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر کی نااہلی کے باعث دل کے مریض در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور
صرف ایمرجنسی کے مریضوں کو دیکھے جانے کا انکشاف،انجیو پلاسٹی ،انجیو گرافی کے مریض رل گئے
ادارہ امراض قلب کراچی این آئی سی وی ڈی میں آج کل بد انتظامیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں اور موجودہ سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر کی نااہلی کے باعث دل کے مریض در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ادارہ امراض قلب کراچی میں گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے صرف ایمرجنسی کے مریضوں کو دیکھا جارہا ہے جبکہ انجیو پلاسٹی اور انجیو گرافی کے مریضوں کو تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے لیکن ان کی انجیو پلاسٹی یا انجیو پلاسٹی نہیں کی جاتی جبکہ بائی پاس کے منتظر مریض اپنے آپریشن کے انتظار میں موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ ادارے میں جاری بد انتظامی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے فلیگ شپ پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے بارے میں رکن سندھ اسمبلی قرۃ العین نے بھی سندھ اسمبلی کے فلور پر آواز اٹھائی ہے اور حکام بالا کی توجہ اس صورتحال کی طرف دلائی ہے ۔ ادارہ امراض قلب کراچی این آئی سی وی ڈی میں جاری بد انتظامی اور نااہلی کی صورتحال پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے صورتحال کا نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انجیو پلاسٹی کے مریض
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔