پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرنیوالے حسن علی نے لاہور قلندرز کیخلاف میچ میں سابق کرکٹر وہاب ریاض ریکارڈ برابر کردیا۔

گزشتہ روز نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں اوپنر فخر زمان کی سینچری کے باعث کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا تاہم اس میچ میں فاسٹ بولر حسن علی نے سابق کرکٹر وہاب ریاض کا پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ برابر کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: "ہم بوڑھے ہوگئے ہیں! لیکن 43، 45 سالہ کرکٹرز پی ایس ایل کا حصہ ہیں"

حسن علی نے میں 4 اوورز میں 28 رنز دیکر 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دیکھائی تھی تاہم وہ ٹیم کو فتح دلوانے میں ناکام رہے۔
پی ایس ایل کی تاریخ میں وہاب ریاض نے 87 اننگز میں 113 وکٹیں لی تھیں تاہم حسن علی نے یہ کانامہ محض 83 اننگز میں سرانجام دیا۔

پی ایس ایل کی تاریخ کے ٹاپ وکٹ ٹیکرز:

اس فہرست میں تیسرے نمبر پر شاہین آفریدی کا نام ہے جنہوں نے 74 اننگز میں 108 وکٹیں لے رکھی ہیں، شاداب خان 96 وکٹیں 85 اننگز جبکہ فہیم اشرف 79 وکٹیں 72 اننگز میں حاصل کی ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل میں زیادہ ففٹیز فخر نے رضوان کو پیچھے چھوڑ دیا

حسن علی کو وہاب ریاض کی سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے ریکارڈ کو توڑنے کیلئے محض 1 اور وکٹ درکار ہے، انہیں یہ موقع 18 اپریل کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بابراعظم کی ناقص فارم؛ پشاور زلمی کی "کپتانی" بھی لینےکا مطالبہ

وہاب ریاض کا ریکارڈ برابر کرنے پر حسن علی کا کہنا تھا کہ میں نے صرف اپنی ٹیم کے لیے اچھی بولنگ کرنے کی کوشش کی، وہاب بھائی ایک عظیم بولر ہیں، ان کا ریکارڈ برابر کرنا اعزاز کی بات ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریکارڈ برابر پی ایس ایل حسن علی نے وہاب ریاض

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر