data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دہی ایک ایسی مقبول غذا ہے جسے بیشتر افراد شوق سے کھاتے ہیں اور یہ صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتی ہے۔ دہی کی کئی اقسام موجود ہیں، جن میں سے یونانی یا گریک دہی عام دہی کے مقابلے میں زیادہ بہتر سمجھی جاتی ہے، تاہم سادہ دہی بھی جسم کے لیے نہایت فائدہ مند ہے، خاص طور پر اگر اس میں چینی شامل نہ کی جائے۔

170 گرام دہی میں تقریباً 107 کیلوریز، 8.

92 گرام پروٹین، 2.64 گرام چکنائی، 12 گرام کاربوہائیڈریٹ، 12 گرام شکر اور 311 ملی گرام کیلشیئم پایا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دہی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے؟

جی ہاں، دن کے مخصوص اوقات میں دہی کھانے سے اس کے فوائد بڑھ جاتے ہیں اور ہڈیوں کی مضبوطی میں مزید مدد ملتی ہے۔

ہڈیوں کے لیے دہی کھانے کا بہترین وقت

اگرچہ دن کے کسی بھی وقت دہی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے، لیکن تحقیق کے مطابق جو لوگ اسے اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بناتے ہیں، ان کی ہڈیوں کی کثافت عام طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ دہی میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لیے بنیادی غذائی جز ہے، جبکہ وٹامن ڈی، پروٹین اور پرو بائیوٹکس بھی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔

خاص طور پر ایک ہی وقت پر روزانہ دہی کھانا، جیسے ناشتہ میں، ہڈیوں کی صحت کو مزید بہتر کرتا ہے۔ اسی طرح ورزش کے بعد دہی کا استعمال بھی نہایت فائدہ مند ہے، کیونکہ اس سے ہڈیوں کے بننے کا عمل تیز ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے دہی کو روزانہ کی غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دہی کھانے ہڈیوں کی کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی