لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی انتظامی کمیٹی 7 ممبران پر مشتمل ہوتی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ انتظامی کمیٹی کی سربراہ برقرار ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 44 رہ گئی اور مجموعی طور پر ججز کی خالی آسامیوں کی تعداد 16 ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ جسٹس علی باقر نجفی کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی گئی۔ جسٹس فیصل زمان خان انتظامی کمیٹی کا حصہ بن گئے، لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی انتظامی کمیٹی 7 ممبران پر مشتمل ہوتی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم انتظامی کمیٹی کی سربراہ برقرار ہیں۔ سینئر ترین جج جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس صداقت علی خان، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس شہباز رضوی کمیٹی کے ممبر مقرر ہیں، اب جسٹس فیصل زمان خان بھی انتظامی کمیٹی کا حصہ بن گئے۔ لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 44 رہ گئی اور مجموعی طور پر ججز کی خالی آسامیوں کی تعداد 16 ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی انتظامی کمیٹی انتظامی کمیٹی کی لاہور ہائیکورٹ کی تعداد ججز کی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔