راس عیسیٰ بندرگاہ پر امریکی حملے، واشنگٹن کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتے ہیں، انصار الله
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں یمنی مقاومتی تحریک کا کہنا تھا کہ ہمیں فلسطین کاز اور عوام کی مدد کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ہم اس جارحیت کے نتیجے میں، فلسطین کی مدد کے حوالے سے اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ الحدیدہ بندرگاہ پر امریکی حملے کے بعد یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" نے ایک سخت بیان جاری کیا۔ جس میں انصار الله نے راس عیسیٰ آئل پورٹ پر امریکی جارحیت کی مذمت کی۔ اس تحریک نے امریکہ کی اس دراندازی کو جنگی جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے امریکی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکہ، جان بوجھ کر یمن کے نہتے شہریوں، سول انفراسٹرکچر اور اقتصادی و سرکاری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انصار اللہ نے کہا کہ راس عیسیٰ آئل پورٹ پر مسلسل امریکی حملوں سے زخمیوں اور شہداء کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور رسم و رواج کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ آئل پورٹ پر حملے کا بنیادی مقصد خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات یمنی عوام تک پہنچنے سے روکنے کی واضح کوشش ہے۔
انصار الله نے کہا کہ امریکی بربریت کا موازنہ صرف غزہ میں صیہونی جرائم سے کیا جا سکتا ہے کہ جو امریکہ کی واضح اور اعلانیہ شراکت کے ساتھ انجام پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن کو فلسطین کاز اور عوام کی مدد کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ہم اس جارحیت کے نتیجے میں، فلسطین کی مدد کے حوالے سے اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس تحریک نے کہا کہ امریکی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ ہم امریکی دشمن کے خلاف اپنے حملوں کے دائرے کو مزید بڑھائیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ شب امریکی لڑاکا طیاروں نے یمن کے صوبہ الحدیدہ میں راس عیسیٰ آئل پورٹ کو 4 بار نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 58 افراد شہید اور 126 زخمی ہو گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انصار الله نے کہا کہ آئل پورٹ کی مدد
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر
جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔