پیپلز پارٹی سندھ کا پانی خود فروخت کرکے رونے کا ڈراما کررہی ہے. زرتاج گل
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 اپریل ۔2025 )قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کا پانی خود فروخت کرکے رونے کا ڈراما کررہی ہے،عمران خان سرخرو ہوں گے، کبھی ڈیل نہیں کریں گے،رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں، خواتین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، تحریک انصاف کا نظریہ کبھی ختم نہیں ہوگا.
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ عمران سے ملاقات کی لسٹ میں نام درج ہونے کے باوجود ملنے نہیں دیا جارہا ہے جیل کے باہر ہمارا محاصرہ کیا گیا ہے کل گوجرانولہ میں تھی تو وہاں مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی گوجرانولہ میں میرے خلاف مقدمات درج ہیں.
زرتاج گل نے کہا کہ تحریک انصاف کے بہت سے رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں خواتین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، عالیہ حمزہ کو بھی کل گرفتار کیا گیا تحریک انصاف کی خواتین کے ساتھ بدترین ظلم ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لا اینڈ آرڈر کے بہت برے حالات ہیں فیڈرل اور پنجاب کے اپوزیشن لیڈر کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا گیا پارلیمانی لیڈر ہوں اس کے باوجود 5 گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا. وزیراعلی پنجاب مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاکر وزیراعلی کی پرفارمنس صرف ٹک ٹاک پر نظر آتی ہے پیپلز پارٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ سے ہمارے امیدوار جیتے ہیں مگر فارم 47 پر ہروا دیا گیا سندھ میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی جیت چکی تھی پورا سندھ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑا ہے سندھ کا پانی خود فروخت کر کے پیپلزپارٹی اب رونے کا ڈرامہ کر رہے ہیں. پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا نظریہ کبھی ختم نہیں ہوگا 9مئی بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا زرتاج گل کا کہنا ہے کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، تمام صوبوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف زرتاج گل کے ساتھ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔