واپس جانے والے افغان شہریوں کی مدد کیلیے فیڈرل کنٹرول روم قائم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
اسلام آباد:
واپس جانے والے افغان شہریوں کی مدد کے لیے وفاقی سطح پر فیڈرل کنٹرول روم قائم کر دیا گیا۔
افغان شہری ہراساں کیے جانے کے خلاف ہیلپ لائن پر شکایت کر سکتے ہیں۔ فیڈرل کنٹرول روم آئی ایف آر پی ہیلپ لائن کے نام سے این سی آئی ایم سی میں قائم کیا گیا ہے۔
کنٹرول روم یا پیلپ لائن 24 گھنٹے فعال رہے گی جس کا مقصد افغان شہریوں کی مدد اور وطن واپسی کے دوران ہراساں کیے جانے کی شکایات کو دور کرنا ہے۔
کنٹرول روم و ہیلپ لائن کا اسٹاف واپس جانے والے افغانوں کو تنگ کیے جانے اور ہراساں کرنے کی شکایات پر کاروائی کرے گا۔
واپس جانے والے افغان ہراساں کیے جانے اور تنگ کیے جانے پر کنٹرول روم و ہیلپ لائن کے درج زیل نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں
ہیلپ لائن:
051-111-367-226
غیر ملکی ہیلپ لائن:
051-567-222-111
کنٹرول روم لینڈ لائن:
051-9211685
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان واپس جانے والے افغان کنٹرول روم ہیلپ لائن کیے جانے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔