افغان مہاجرین کے مکمل انخلا تک کارروائی ہوگی، ضلعی انتظامیہ چمن
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
اے سی چمن نے اس موقع پر افغان باشندوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے رضاکارانہ طور پر فوری طور پر وطن واپس چلے جائیں۔ بصورت دیگر انکے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ آج اسسٹنٹ کمشنر چمن امتیاز علی بلوچ نے لیویز رسالدار حاجی جہانگیر خان کاکڑ، لیویز اور ایف سی فورسز کے ہمراہ چمن کے علاقے شین تالاب میں غیر قانونی باشندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس دوران متعدد غیر قانونی افغان مہاجرین کو حراست میں لینے کے بعد ضروری قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد انہیں افغانستان واپس ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ اے سی چمن نے اس موقع پر افغان باشندوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے رضاکارانہ طور پر فوری طور پر وطن واپس چلے جائیں۔ بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کریک ڈاؤن روزانہ کی بنیاد پر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تمام افغان مہاجرین کا مکمل انخلا مکمل نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کے خلاف
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔