رجب بٹ اور دوستوں کے خلاف زیادتی کیس میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں رجب بٹ و دیگر کے ساتھ مل کر خاتون سے زبردستی زیادتی کے ملزم سلمان حیدر کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔ جسٹس جواد ظفر نے کیس کی سماعت کی اور متعلقہ ایس پی کو 19 ستمبر کو رپورٹ سمیت طلب کرلیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سلمان حیدر تفتیش میں گناہگار ثابت ہوا ہے۔ تاہم مدعیہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی تفتیش میں سنگین نقائص موجود ہیں اور شریک ملزمان رجب بٹ اور مان ڈوگر کو حقائق کے برعکس کلین چٹ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس بنیاد پر شریک ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔
وکیل مدعیہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ مدعیہ خاتون اور ان کی ہمشیرہ کے موبائل فونز سے تمام ڈیٹا ختم کیا گیا، جبکہ ملزم سلمان حیدر مدعیہ کو دھمکیاں دے کر بار بار زیادتی کرتا رہا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کی جائے۔
دوسری جانب درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ تھانہ نواب ٹاؤن پولیس نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا ہے اور عدالت سے درخواست کی کہ عبوری ضمانت کو کنفرم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔