جب زندگی مصروف ہو جائے اور دباؤ بڑھ جائے تو یہ بالکل عام بات ہے کہ آپ کسی کمرے میں جائیں اور یہ بھول جائیں کہ وہاں کیوں آئے تھے یا بات کرتے ہوئے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ جائے یا سادہ سے کاموں پر بھی توجہ مرکوز نہ رکھ پائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک عام گلے کا انفیکشن بچوں کے دماغ کو کیسے بدل سکتا ہے؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خاص طور پر ویک اینڈ کے بعد دوبارہ کام یا پڑھائی کی روٹین میں واپس آنا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ اس ذہنی دھند کو عام طور پر ’برین فوگ‘ یا دماغی دھند کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایسی علامات کا مجموعہ ہے جیسے توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، بھول جانا اور دماغی سستی یا سست روی۔

 برین فوگ کی ممکنہ وجوہات

برین فوگ کی ممکنہ وجوہات میں ذہنی دباؤ یا کام کا بوجھ، ہارمونی تبدیلیاں (جیسے مینوپاز یا پیری مینوپاز)، لانگ کوویڈ اور آٹو امیون بیماریاں (مثلاً لیوپس) شامل ہیں لیکن یہ اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب دماغ پر بہت زیادہ بوجھ ہو۔

مزید پڑھیے: آوازیں سننا ذہنی بیماری یا روحانی رابطہ؟

ماہر ڈاکٹر تھاراکا اس حوالے سے 4 مشورے دیتی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

خود سے سختی سے گریز کریں

یاد رکھیں برین فوگ کوئی کمزوری نہیں بلکہ یہ دماغ کا ایک سگنل ہوتا ہے کہ وہ تھکا ہوا یا زیادہ دباؤ میں ہے۔ لہٰذا کاموں کو کم کریں، مددمانگیں اور خود پر سختی نہ کریں۔ اگر علامات برقرار رہیں تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

دن کی ترتیب بنائیں

ہر دن کی ایک روٹین بنائیں تاکہ دماغ بار بار فیصلے کرنے سے بچ سکے۔

صبح و شام کی روٹین جیسے کہ کپڑے پہلے سے نکال لینا اور ناشتہ پہلے سے تیار کرنا یہ چھوٹے قدم دماغ کو تھکن سے بچاتے ہیں۔

وقفہ لینا نہ بھولیں

اگر دن بھر کام، میٹنگز، سماجی تقریبات اور ذمہ داریاں ہوں تو دماغ کو ’ری سیٹ‘ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔

مزید پڑھیں: ڈی ایل ڈی ایک چھپی ہوئی بیماری جو 10 فیصد بچوں میں ہوتی ہے، حل کیا ہے؟

ہر سرگرمی کے درمیان 5–10 منٹ کا مختصر وقفہ لیں اور اس دوران تھوڑی اسٹریچنگ کی جاسکتی ہے، پانی پیا جاسکتا ہے، کھڑکی سے باہر دیکھا جاسکتا ہے اور خاموشی بھی بیٹھا جاسکتا ہے۔ یہ وقفے دماغ کے لیے دم لینے کا موقع ہوتے ہیں۔

کیلنڈر اور ریمائنڈرز کا استعمال کریں

ہر کام کو دماغ میں یاد رکھنے کی کوشش نہ کریں  بلکہ فون یا کیلنڈر میں یاددہانی لگا لیں۔

روزانہ کے کام خودکار طریقے سے شیڈول کریں مثلاً دوپہر کے کھانے کا وقت، بلز ادا کرنے کی یاددہانی، ہفتہ وار کام وغیرہ۔ یہ آپ کا ذہنی بوجھ کم کرتا ہے۔

برین فوگ سے چھٹکارے کے لیے ڈاکٹر تھاراکا کی  ٹپس

برین فوگ سے چھٹکارے کے لیے ڈاکٹر تھاراکا نے کچھ تراکیب بتائی ہیں جو جو کچھ اس طرح ہیں۔

نیند

ہر رات 7–9 گھنٹے کی نیند لیں تاکہ دماغ آرام کرے اور یادداشت بہتر ہو۔

پانی

پانی کی معمولی کمی بھی توجہ کو متاثر کرتی ہے لہٰذا دن بھر پانی پیتے رہیں۔

سرگرمی

چلنا، ہلکی ورزش یا کھینچاؤ خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے اور دماغی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔

غذاپروسیسڈ کھانوں کی جگہ مکمل اور قدرتی غذا لیں۔

چولین جیسے غذائی اجزا (انڈے، مچھلی، بادام وغیرہ) دماغ کے لیے مفید ہیں۔

اسٹریس

مسلسل تناؤ کورٹیسول کی زیادتی سے دماغ کو دھندلا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا بار بار اعضا کی پیوندکاری سے انسان امر ہو سکتا ہے؟شی جن پنگ اور پیوٹن کےدرمیان غیر متوقع گفتگو

سانس کی مشقیں، مائنڈفولنیس، یا پسندیدہ مشغلوں سے تناؤ کم کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بار بار بھولنا برین فوگ دماغی دھند صحت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بار بار بھولنا دماغ کو سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ