Daily Ausaf:
2026-06-03@07:51:44 GMT

خاموش طاقت، نایاب معدنیات کی دوڑ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
چین نے یکم اگست2023ء کوگیلیم،جرمینیم سمیت8نایاب معدنیات کی برآمدات پرلائسنسنگ کانظام نافذکیا،جوامریکاکی90 فیصد سپلائی کو متاثر کرتا ہے۔گویاچین نے نایاب معدنیات پرپابندی کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے یہ قانونی جوازپیش کیاکہ یہ پابندیاں’’قومی سلامتی‘‘اور ’’ماحولیاتی تحفظ‘‘کے لئے ہیں لیکن تجزیہ کاراسے امریکاکودباؤمیں لانے کی کوشش قراردیتے ہیں۔چین کی طرف سے عائدپابندیوں نے امریکاکی معیشت پراس طرح گہرااثرچھوڑاکہ اس کے ایف 35 طیاروں کی پیداوارسست پڑگئی،امریکامیں الیکٹرک کارز(ٹیسلا)، ٹاورز(کوالکام)اورجی5 بری طرح نہ صرف متاثرہوئے ہیں بلکہ ناقابل تلافی نقصان کی بناپران کامستقبل داؤپرلگ گیاہے۔
امریکاکے لئے یہ صورتِ حال انتہائی پریشان کن ہے۔دفاعی سازوسامان سے لے کرشمسی توانائی تک،ہرشعبے میں چین پرانحصاراس کی حکمت عملی کو کمزور کر رہاہے۔مثال کے طورپر، ایف35 لڑاکا طیارے کے ہریونٹ میں400کلوگرام سے زائد نایاب معدنیات استعمال ہوتے ہیں۔چین کی جانب سے برآمدات پر پابندی نے امریکاکواس مقام پرلاکھڑ ا کیاہے جہاں 1973ء کے تیل کے بحران میں عرب ممالک نے مغرب کو لاکھڑا کیاتھا۔امریکاکی سب سے بڑی کمزوری کااورچین پر انحصار کایہ عالم ہے کہ امریکاکی سب سے بڑی کان، مانٹین پاس کیلیفورنیاسے نکالاگیاخام موادبھی پروسیسنگ کے لئے چین ہی بھیجاجاتاہے۔
چین کی پروسیسنگ مہارت کاجائزہ اور ٹیکنالوجی کے ارتقاکااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس نے2000میں ہی863 پروگرام کے تحت نایاب معدنیات کی ریسرچ  پر 12ارب ڈالر خرچ کئے۔ اس پراجیکٹ پرچین کواس لئے فوقیت رہی جوبعد ازاں موجودہ دورمیں چین کی اجارہ داری کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے کہ چین میں کان کنی کی لاگت امریکا سے60فیصدکم ہیں۔اس کے علاوہ چین نے شنگھائی اورگوانگژومیں تین سوسے زائدپروسیسنگ پلانٹس لگانے کے ساتھ کان کنی کمپنیوں کو30فیصد ٹیکس میں چھوٹ بھی دے دی ہے۔ چین کی ان کامیاب پالیسیوں کے سامنے آسٹریلیا کی لیناس کارپوریشن اورملائیشیاء کی لیناس ایڈوانسڈ میٹیریلزپلانٹ بھی بے بس ہوگئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکانے2022ء میں ایک مرتبہ پھرمانٹین پاس کان کی بحالی کودوبارہ فعال کرنے کے لئے 35ملین ڈالرکی سرمایہ کاری سے اس کا آغاز کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکا نے چین کے معاشی محاصرہ کے لئے آسٹریلیا، جاپان،بھارت کوساتھ ملاکر ’’کواڈ‘‘ جیسابین العلاقائی اتحادبنایاہے تاکہ چین کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے متبادل ذرائع تلاش کئے جائیں۔ امریکا نے ’’ریئرارتھ انڈیپینڈنس‘‘ ایکٹ 2023ء کے قانون کے تحت2030ء تک خودکو پروسیسنگ میں خود کفیل بنانے کاہدف طے کررکھاہے لیکن ماہرین کی رائے کے مطابق یہ ایک بھرپورکوشش توہوسکتی ہے لیکن مکمل خودانحصاری کانام نہیں دیاجاسکتا۔
امریکاکی80 فیصد نایاب معدنیات چین سے درآمدہوتی ہیں۔مثال کے طورپر نیو ’’ڈیمیئم‘‘ جو الیکٹرک موٹرزاورونڈ ٹربائنوں کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔’’یوروپیئم‘‘نیوکلیئرری ایکٹرز اور میڈیکل امیجنگ مشینوں میں استعمال ہوتاہے۔اسی طرح ’’ڈسپروسیئم‘‘ فوجی ریڈاراور میزائل گائیڈنس سسٹمزکاکلیدی جزوہے، ان تمام معدنیات کے لئے امریکاچین کامحتاج ہے ۔ 2022 ء کی رپورٹ کے مطابق اگرچین سپلائی روک دے توایف35طیاروں کی پیداوارمیں کم ازکم6ماہ کی تاخیرہوسکتی ہے۔
آئیے!دیکھتے ہیں کہ چین کے اس جوابی وارسے امریکاپرکیاصنعتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور کیانایاب چینی معدنیات پرامریکی انحصار مستقبل میں کیاخوفناک معاشی اثرات نمودارہوسکتے ہیں۔
یوایس جیالوجیکل سروے2023ء کے اعدادوشمارکے مطابق امریکاکی6میں سے5 نایاب معدنیات(جیسے نیوڈیمیئم، پراسیوڈائمیئم، ڈسپرو سیئم) کا 80فیصدکی95فیصدسپلائی چین کے سخت کنٹرول میں ہے۔گیلیم اورجرمینیم(سیمی کنڈکٹرزکے لئے اہم) کی 94 فیصد عالمی سپلائی چین کے پاس ہے،جس پر امریکا کا 100 فیصد انحصارہے۔ امریکاکی صنعتی شعبوں کاانحصار چینی نایاب معدنیات کااس قدرمرہون منت ہے کہ الیکٹرک گاڑی ٹیسلابیٹری میں10سے15 کلوگرام معدینات (خاص طورپرنیوڈیمیئم) استعمال ہوتاہے۔ 2030ء تک امریکا کوایک ونڈ ٹربائن میں2گنا معدنیا ت درکارہیں اوریہ ونڈٹربائن امریکی صنعت کے لئے تجارتی شہہ رگ سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ اسی طرح یہ نایاب معدنیات امریکی فوجی ہارڈوئیر کے لئے اس قدراہم ہیں کہ ہرایک ایف35 لڑاکاطیارے کے ہریونٹ میں417 کلوگرام معدنیات درکارہیں۔اسی طرح ایک’’ایجز‘‘ گائیڈڈمیزائل سسٹم میں4سے 5کلوگرام ’’یٹریئم‘‘ معدنیات درکار ہے۔
پینٹاگون کی2020ء رپورٹ کے مطابق 220امریکی دفاعی پیداوارمیں سے160 دفاعی سپلائی چینزانہی چینی نایاب معدنیات پرمنحصر ہیں۔ امریکی لڑاکا طیارے ایف35کے ساتھ ساتھ ہرایک امریکی کروز میزائل جس میں3سے5کلو گرام ٹیربیئم چینی نایاب معدنیات استعمال ہوتی ہیں،اگرچین صرف 80 فیصد سپلائی روک دے تو6ماہ میں دفاعی شعبہ ایسے بحران میں مبتلاہو سکتا ہے کہ اس سے امریکی سلامتی کوسنگین خطرات کا سامناکرناپڑسکتاہے۔
یہ چینی معدنیات آخرکیوں’’نایاب‘‘ہیں؟یہ عناصرزمین کی پرت میں دوسری دھاتوں(جیسے آئرن، تانبا)کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔انہیں الگ کرنے کے لئے کیمیائی پیچیدگی کے ساتھ ساتھ انتہائی مہنگے کیمیائی عمل درکارہیں۔ پروسسینگ کے دوران زہریلے فضلے کا اخراج ہوتاہے جس کی وجہ سے مغربی ممالک نے 1990ء کی دہائی میں کان کنی ترک کردی تھی۔ بیجنگ نے مزدوری کی کم قیمت اور ماحولیاتی قوانین میں نرمی سے پروسیسنگ پرکنٹرول حاصل کرلیااور یہی وجہ ہے کہ آج نایاب معدنیات کی پروسیسنگ میں چین کی اجارہ داری قائم ہوچکی ہے۔
اک نظر نایاب معدنیات کے عالمی ذخائر پر بھی ڈالتے ہیں:
نایاب معدنیات میں چین اس وقت سرفہرست ہے۔خاص طورپرانرمنگولیاکے بایان اوبوکان سے 44 ملین میٹرک ٹن کی مقدارمیں حاصل ہوتاہے جو دنیا کا 37 فیصدہے۔
ویتنام ٹیکنالوجی کی کمی کی بناکے باوجود 22 ملین میٹرک ٹن کی معدنیات نکال رہاہے جو دنیا کا 18 فیصد ہے اوروہ بھی پروسیسنگ کے لئے چین کی خدمات حاصل کررہاہے۔
روس اوربرازیل سرمایہ کاری نہ ہونے کی بناپر21ملین میٹرک ٹن معدنیات نکال رہاہے جودنیا کا17فیصدہے۔
امریکاکیلیفورنیامانٹین پاس کان سے (1.

5 ملین میٹرک ٹن) کی مقدارمیں نکال رہاہے لیکن یہ تمام معدنیات پروسیسنگ کے لئے چین بھیجی جاتی ہیں۔ گویا دنیاکی75فیصدنایاب معدنیات کی پروسیسنگ چین کے ہاتھ میں ہے۔
آئیے صرف ان4چینی مخصوص نایاب معدنیات کاذکرکرتے ہیں جن کے اعدادوشمار خود امریکی ادارے نے شائع کئے ہیں:
امریکی الیکٹرک موٹرز،مقناطیس صنعت کاچینی نایابنیوڈیمیئم‘‘معدنیات پر92 فیصدانحصارہے۔
اسی طرح نیوکلیئرری ایکٹرزاورلیزر مصنوعات کاچینی معدنیات’’یوروپیئم‘‘پر89فیصد انحصار ہے۔
فوجی ریڈاراورایٹمی ہتھیارکے لئے چینی معدنیات ’’ڈسپروسیئم‘‘کا95فیصدلازمی عمل دخل ہے۔
ایئر کرافٹ انجنز اور ہائنبرڈ کارزکے لئے 91 فیصدپراسیوڈائمیئم نایاب چینی معدنیات استعمال لازمی ہے۔
مانٹین پاس کان(کیلیفورنیا)امریکاکی واحد فعال کان،جو15ہزارٹن سالانہ خام مواد نکالتی ہے لیکن اسے پروسسینگ کے لئے چین بھیجاجاتا ہے۔ جاتاہے۔امریکامیں صرف ایک پروسیینگ پلانٹ ٹیکساس میں ہے جوجون2025ء تک مکمل ہوگااوراس کے باوجودابھی امریکاکو پروسیسنگ کی سہولت کے لئے کئی سال چین پرانحصار کرناہوگا۔
(جاری ہے)

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نایاب معدنیات کی چینی معدنیات چینی نایاب کے لئے چین میٹرک ٹن کے مطابق میں چین ہے لیکن کے ساتھ چین کے چین کی

پڑھیں:

محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کی پیش گوئی کردی۔رپورٹ کے مطابق بدھ کے روزاسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیزہواؤں/آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش / ژالہ باری )کی توقع ہے۔ خیبرپختونخواکے بیشتر اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، ہنگو اور کرم میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کےساتھ وقفے وقفے سے بارش (بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ) کا امکان ہے۔

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا؟ ارکان پارلیمنٹ نے بتا دیا

 پنجاب کے بیشتر اضلاع راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر ، میانوالی، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں کہیں کہیں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش اور ژالہ باری )کی توقع ہے۔بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک جبکہ جنوبی اضلاع میں شدیدگرم رہنے کی توقع۔تاہم شمال مشرقی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ کوئٹہ، ژوب، شیرانی، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان ، ڈیرہ بگٹی ، نصیر آباد، کوہلو، موسیٰ خیل، خضدار اور گردونواح میں چند مقامات پر تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔

بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

 سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا ۔ تاہم بالائی سندھ (سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور) میں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت  نوکنڈی، سبی 48، دالبندین 47اور دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟