190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانیٔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔
بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جن پر اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت 30 اپریل کو ہو گی۔
قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف کیس کی سماعت کریں گے۔
خالد یوسف چوہدری کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل آئندہ ایک دو دن میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی جائے گی۔
واضح رہے کہ 17 جنوری کے عدالتی فیصلے کے خلاف 27 جنوری کو اپیلیں فائل ہوئی تھیں۔
17 اپریل کو کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواستیں عدالت نے منظور کی تھیں۔
احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 17 جنوری کو سنایا تھا جس کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید و جرمانے کی سزا ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملین پاؤنڈ کیس اور بشری
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔