Express News:
2026-07-24@04:16:18 GMT

سندھ میں پانی کا موجودہ بحران

اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT

پانی کسی بھی انسانی معاشرے کے لیے زندگی کی بنیاد ہے اور پاکستان بالخصوص سندھ جیسے زرعی صوبے کے لیے پانی کا تحفظ زندگی اور معیشت کا سوال ہے، پنجاب ‘ بلوچستان ‘ خیبر پختون خواہ سمیت ملک بھر میں پانی کا بحران شدت سے سر اٹھا رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں سندھ کو پانی کے جس شدید بحران کا سامناکرنا پڑ رہا ہے، اس کے اثرات زراعت، ماحول، صحت‘ معیشت اور سماجی نظام تک پھیل چکے ہیں۔

 دریائے سندھ صدیوں سے سندھ کی تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب اسی دریا کے کنارے پروان چڑھی۔ یہ دریا نہ صرف پینے کے پانی، زراعت اور روزگار کا ذریعہ ہے، بلکہ ایک ثقافتی اور روحانی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

دریائے سندھ دھرتی کی روح ہے اور صدیوں سے یہاں کے لوگوں کا اس کے ساتھ ایک گہرا روحانی تعلق رہا ہے۔ یہ صرف پانی کی ایک دھارا نہیں بلکہ زندگی، تہذیب اور شناخت کا مظہر ہے۔ سندھ کے لوگ اسے ’’ اُتم ماتا ‘‘ یعنی عظیم ماں کا درجہ دیتے ہیں،کیونکہ یہی دریا ان کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، ان کی معیشت کو سہارا دیتا ہے،اور ان کی ثقافت کو جنم دیتا ہے۔

دریائے سندھ کو صوفی شاعروں جیسے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور دیگر نے اپنی شاعری میں روحانیت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے کلام میں سندھُو ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو فطرت سے جوڑتی ہے، دلوں کو پاک کرتی ہے اور خدا کی قربت کا وسیلہ بنتی ہے۔ سندھُو کی روانی صوفیانہ وحدت الوجود کی  علامت سمجھی جاتی ہے، جو ظاہر و باطن کو ملا دیتی ہے۔ تاہم، آج یہ دریا اپنی قدرتی عظمت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے دریائے سندھ پر ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر، پانی کے غیر منصفانہ بٹوارے اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس کی قدرتی روانی کو متاثر کیا ہے۔ سندھ کے عوام اور ماہرین اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ سندھ کے آخری علاقوں، خاص طور پر ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں دریا کا پانی پہنچنا بند ہوگیا ہے۔

سندھ ڈیلٹا، جو ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ہے، دریائے سندھ کے پانی کے بغیر صحرا میں بدل رہا ہے۔ میٹھے پانی کی کمی کے باعث سمندر آگے بڑھ رہا ہے اورکھارے پانی کی یلغار نے ہزاروں ایکڑ زرخیز زمینوں کو بنجرکردیا ہے۔

سندھ کی معیشت کا دار و مدار زراعت پر ہے اور زراعت کا انحصار مکمل طور پر پانی پر ہوتا ہے۔ گندم، چاول، کپاس، گنا اور سبزیاں سندھ کی بڑی فصلیں ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں پانی کی کمی کے باعث یہ فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

نہری نظام کی زبوں حالی، پانی کی چوری، غیر مؤثر انتظام اور پرانے انفرا اسٹرکچر کے باعث کئی علاقوں کو ان کا حصہ کا پانی نہیں مل پاتا۔ چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،کیونکہ وہ نہ تو ٹیوب ویل لگا سکتے ہیں اور نہ ہی مہنگی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً، ان کی زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں، فصلوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے اور غربت بڑھ رہی ہے۔

مزید برآں، پانی کی غیر موجودگی یا قلت نے مال مویشی پالنے والے افراد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ اگانے میں دشواری، پینے کے پانی کی قلت اورگرمیوں میں پانی کا بحران ان کے لیے ایک مسلسل چیلنج ہے۔پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ پانی کی آلودگی بھی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔

دریائے سندھ اور اس سے جڑی نہریں صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکل، سیوریج اورگھریلو کوڑا کرکٹ سے آلودہ ہو رہی ہیں۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں پانی کی صفائی کا مؤثر نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے آلودہ پانی نہ صرف فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ انسانوں میں جلدی، معدے، گردے اور جگر کی بیماریاں بڑھا رہا ہے۔

پینے کا صاف پانی اکثر دیہی علاقوں میں نایاب ہو چکا ہے۔ لوگ جوہڑوں، تالابوں یا آلودہ نہری پانی پر انحصارکرتے ہیں، جس سے ہیپاٹائٹس، ڈائریا اور دیگر وبائیں عام ہو چکی ہیں۔

سندھ میں خشک سالی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی نہ ہونے سے نہ صرف ماحولیاتی بحران پیدا ہوچکا ہے، جس کا اثر سندھ کے کئی اضلاع پر بھی پڑ رہا ہے۔ سمندر کے بڑھتے ہوئے پانی نے سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کے اضلاع کی زرعی زمینوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 50 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندرکی نذر ہو چکی ہے۔

حال ہی میں وفاقی سطح پر چولستان کے ریگستانی علاقے میں دریائے سندھ سے نہر نکالنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانا ہے۔ سب سے پہلا اور بڑا نقصان سندھ کو اس پانی کی مزید کمی کی صورت میں ہوگا، جو پہلے ہی ضرورت سے کم مقدار میں اسے مل رہا ہے۔

سندھ کے بیشتر اضلاع، خاص طور پر زیریں سندھ کے علاقے پہلے ہی پانی کی قلت سے شدید متاثر ہیں، اگر چولستان کے لیے الگ سے نہر نکالی جاتی ہے تو مزید پانی اوپر ہی روک لیا جائے گا اور سندھ کے جنوبی اضلاع جیسے ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر کو دریا کا پانی شاید مزید کم ملے گا۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اس منصوبے پر  سندھ کی قیادت اور ماہرین کو اعتماد میں لیے بغیر  کام شروع کیا جا رہا ہے، جو آئینی اور بین الصوبائی اتفاق رائے کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ماہرین کے مطابق دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم ایک نازک توازن پر قائم ہے اور اس  میں کسی بھی نئی نہر کا اضافہ اس توازن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

مزید یہ کہ چولستان میں نہر نکالنے سے ماحولیاتی اثرات بھی پیدا ہوں گے۔ پانی کی سطح میں کمی، ڈیلٹا کی مزید تباہی اور سمندرکے کھارے پانی کی پیش قدمی جیسے اثرات مزید شدید  ہو سکت ے ہیں۔ ساتھ ہی یہ اقدام سندھ کے لوگوں میں احساسِ محرومی اور بین الصوبائی اختلافات کو بڑھا رہا ہے۔

چولستان میں دریائے سندھ سے نہر نکالنے کا منصوبہ، موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امرکی ہے کہ ملک بھر میں پانی کے بٹوارے پر شفاف، منصفانہ اور آئینی اصولوں کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ سندھ کے بنیادی حقِ پانی کو محفوظ بنائے بغیر معیشت نہیں سنور سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دریائے سندھ میں پانی کے پانی پانی کا پانی کے پانی کی سندھ کے سندھ کی رہا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن