مولانا فضل الرحمان کی غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر روس سے کردار ادا کرنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خورِیو نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی، خطے اور ملکی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے ایران-اسرائیل جنگ کے تناظر میں ایران کی حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ فلسطین کے مسئلے اور غزہ میں جاری انسانی المیے پر گہرے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے خلاف روس سے مداخلت اور فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
روسی سفیر البرٹ خورِیو نے غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے معاملے پر روس کی جانب سے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے روسی اقدام پر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی گئی تحسین کا بھی تبادلہ کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے ایشیاء-یورپ سلامتی کے عنوان سے روس کی طرف سے منعقد کی جانے والی کانفرنس کو وقت کا اہم تقاضا قرار دیا، جس کا مقصد باہمی تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔ روسی سفیر نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا اور دونوں فریقوں نے اس نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے پر بھی اتفاق رائے ظاہر کیا۔ ملاقات کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے روسی سفیر کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس موقع پر جلال الدین ایڈووکیٹ اور مولانا اسجد محمود بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان روسی سفیر
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔