اداکارہ حمیرا اصغر نے فلیٹ کا آخری کرایہ کب ادا کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 سے اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے واقعہ نے پورے معاشرے کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
اس افسوس ناک واقعہ سے متعلق ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی اسد رضا نے بتایا کہ حمیرا اصغر نے فلیٹ 20 دسمبر 2018 کو کرائے پر لیا تھا۔ کرایہ نہ بڑھانے پر انہیں پہلا نوٹس 3 جون 2021 کو بھیجا گیا، جبکہ 13 جون 2021 کو اداکارہ کو گھر خالی کرنے کو کہا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق 17 جون 2021 کواداکارہ کو دوسرا نوٹس بھیجا گیا، کیونکہ حمیرا اصغر کافی عرصے سے کرایہ ادا نہیں کر رہی تھیں۔ بعدازاں حمیرا اصغر نے ایک سال پہلے گھر خالی کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ جب مالک مکان کا حمیرا اصغر سے رابطہ ختم ہوا تو کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق اس معاملے کی مختلف پہلووں سے تفتیش جاری ہے۔ کیمیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کافی چیزیں واضح ہوجائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حمیرا اصغر کی فیملی سے رابطے میں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حمیرا اصغر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔