کوئٹہ: سرکاری فلیٹس کی زبوں حالی، کروڑوں روپے ضائع ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کوئٹہ کے نواحی علاقے نواں کلی میں واقع سرکاری فلیٹس کی زبوں حالی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کئی سال قبل لیبر ڈیپارٹمنٹ نے ملازمین کے لیے 400 سے زائد فلیٹوں کی تعمیر مکمل کی تھی تاہم اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود اب تک ان فلیٹس کی الاٹمنٹ نہیں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 480 سے زائد مخدوش عمارتیں ہیں، بغیر اجازت تعمیر پر سخت کارروائی ہوگی: وزیراعلیٰ سندھ
الاٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ فلیٹس اب کھنڈرات میں تبدیل ہونے لگے ہیں اور ان کی مینٹیننس نہ ہونے کے سبب عمارتوں کے قیمتی شیشے بھی ٹوٹ چکے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ان فلیٹس کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ حکومت کے کروڑوں روپے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان سرکاری فلیٹس میں اب پرائیویٹ افراد رہ رہے ہیں جو کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
سرکاری فلیٹس کے باوجود، متعدد ملازمین اب تک کرائے کے مکانوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور جس پر ملازمین میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: لیاری کے علاقے بغدادی میں بلڈنگ گرنے کا معاملہ، 9 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور
ملازمین نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر ان فلیٹس کی الاٹمنٹ کو یقینی بنوائیں تاکہ حکومت کی سرکاری رہائش گاہیں صحیح استعمال میں لائی جا سکیں اور ملازمین کو رہائش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سرکار فلیٹس کی دگرگوں حالت کوئتہ کوئٹہ سرکاری فلیٹس نواں کلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کوئتہ نواں کلی سرکاری فلیٹس فلیٹس کی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔