Express News:
2026-06-02@20:58:15 GMT

ثالثی قانون اور جرگہ سسٹم

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

ثالثی ایک کم خرچ موثر طریقہ کار ہے جس پر عمل سے ملکی عدالتوں پر بھی مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور عام لوگوں کی پریشانیوں میں بھی کمی واقع ہوگی۔ لوگ عدالتی معاملات کے اخراجات سے بھی محفوظ رہیں گے اور ان کے معاملات ثالثی کے ذریعے جلد طے پا جایا کریں گے۔ اسی لیے بعض قانون دانوں کا موقف ہے کہ حکومت نئے ثالثی قانون کا جلد نفاذ یقینی بنائے جس کے ذریعے تنازعات کے حل کے معاشی فوائد بھی اہم ثابت ہوں گے۔

وفاقی سیکریٹری قانون نے بھی کہا ہے کہ عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے ثالثی ہی بروقت حل ہے۔ انھوں نے وزارت انصاف کے انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی) اور اے ڈی آر او ڈی آر انٹرنیشنل کے اشتراک سے 6 روزہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایکریڈسٹیڈ میڈی ایشن پروگرام میں ثالثی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کی عدالتوں پر بہت بڑا بوجھ ہے وہ صرف ثالثی کے ذریعے ہی حل ہونے کا واحد راستہ ہے۔

وفاقی وزیر برائے امورکشمیر،گلگت بلتستان اور سیفران امیر مقام کی زیر صدارت اجلاس میں ضم شدہ اضلاع میں جرگہ نظام کی بحالی کے سلسلے میں اعلیٰ سطح اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمائدین کو مشاورت میں شامل اور سسٹم کو آئین سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔

اس اہم اجلاس میں گورنر کے پی سمیت اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ امیر مقام نے اجلاس میں کہا کہ جرگہ نظام میں عمائدین کے علاوہ قانونی ماہرین کو بھی مشاورت میں شامل اور عدالتی اور آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ جرگہ سسٹم سے پولیس پر انحصار کم اور نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔ اجلاس میں اس سلسلے میں ذیلی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا جب کہ آیندہ اجلاس میں مزید فیصلے متوقع ہیں۔

ملک بھر میں نچلی عدالتوں پر مختلف اہم اور معمولی تنازعات کے مقدمات کا بوجھ ہے اور ایسے لاکھوں ہی مقدمات سالوں سے سماعت اور فیصلوں کے منتظر ہیں اور ان مقدمات کی پیروی سینئر وکیلوں سے زیادہ جونیئر وکلا کر رہے ہیں جو ان کی کمائی کا واحد ذریعہ ہیں، اس لیے وہ مختلف تاخیری حربے استعمال کر کے مقدمات کو طول دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسے مقدمات کے نچلی عدالتوں میں جلد فیصلے آنا شروع ہو جائیں تو عدالت آنے والے سائلین کی مقدمات کے جلد فیصلوں سے جان چھوٹ جائے گی اور مقدمات کو طوالت دینے والوں کی کمائی ختم ہو جائے گی۔ مقدمات کو طویل کرانے میں عدالتی عملہ بھی ملوث ہوتا ہے کیونکہ عدالتی عملے کو بھی مقدمے طوالت اختیارکرنے پر دونوں پارٹیوں سے پیسے ملتے ہیں۔ اس لیے مختلف وجوہات پر تاریخ پر تاریخ ملنے سے لوگ پریشان ہوں تو ہوں ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور دونوں کی کمائی جاری رہتی ہے۔

سینئر وکلا قتل و دیگر اہم مقدمات کی پیروی کرتے ہیں اور معمولی تنازعات و معاملات میں نہیں پڑتے جو جونیئر وکلا لے لیتے ہیں۔ بے روزگاری کے باعث جونیئر وکیلوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور سینئر وکلا کی تعداد جونیئرز سے کم ہے اس لیے وہ دباؤ میں رہتے ہیں ۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نچلی عدالتوں میں ہزاروں جونیئر وکیل رجسٹرڈ تک نہیں ہیں مگر وہ عدالتوں میں پیش بھی ہوتے ہیں اور ان کا روزگار ٹھیک چل رہا ہے۔ سینئر وکیل لاکھوں روپے فیس لے کر اہم کیس لڑتے ہیں اور ہزاروں روپے فیس لے کر مقدمات لڑنے والے جونیئر وکلا نچلی عدالتوں میں پیروی کرتے ہیں۔

قانون دانوں کے مطابق ثالثی قانون کا نفاذ جلد یقینی بنانا چاہیے اور وفاقی وزیروں اور گورنر کے پی کے مطابق آئین کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں جرگہ نظام ضروری ہے۔ ثالثی نظام اور جرگہ سسٹم کی اہمیت اعلیٰ سطح پر تسلیم بھی کی جا رہی ہے مگر حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی کیونکہ وہ عدالتوں میں زیر سماعت سیاسی مقدمات میں پھنسی ہوئی ہے اور سیاسی فیصلے اعلیٰ عدلیہ اور لاکھوں دیگر مقدمات نچلی عدالتوں کے فیصلوں سے ہی طے ہونے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے ضلعی نظام حکومت میں یوسیز کو اہمیت حاصل تھی اور ہر یوسی میں پنچایت کمیٹی ہوتی تھی جس کے معاملات وفاقی وزارت بلدیات دیکھتی تھی اور 8 سالوں کی ضلعی حکومتوں میں یوسیز کی پنچایت کمیٹیوں نے معمولی نوعیت، طلاق و ازدواجی اور باہمی تنازعات لاکھوں کی تعداد میں نمٹائے اور پنچایت کمیٹیوں کے فیصلے سے مطمئن نہ ہونے والے ہی نچلی عدالتوں سے رجوع کرتے تھے اور نچلی عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بھی کم تھی کیونکہ چھوٹے تنازعات یوسیز میں حل ہو جاتے تھے۔

اندرون ملک اب بھی قبائلی جرگوں میں فیصلے ہو رہے ہیں جہاں قبائلی جھگڑوں میں ہلاکتوں ہی کے مقدمات چلتے ہیں اور قبائلی سردار اور بااثر عمائدین تمام پارٹیوں کے اطمینان کے بعد فیصلے کرتے ہیں جو فیصلے ماننے کی پارٹیاں پابند ہوتی ہیں جہاں ذمے داروں پر بھاری جرمانے و دیگر فیصلے کیے جاتے ہیں جس سے قبائلی جھگڑوں اور خونریزی میں کمی آتی ہے مگر علاقہ پولیس جرگوں کے فیصلوں سے خوش نہیں ہوتی کیونکہ پولیس کی کمائی بند ہو جاتی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ قتل و جھگڑوں کے فیصلے جرگوں میں ہوں۔ پولیس اپنی غیر قانونی پکڑ دھکڑ، جھوٹے مقدمات کے اندراج اور غیر متعلقہ گرفتاریوں سے بڑی رقم بطور رشوت لینے کی عادی ہے۔

تقریباً 38 سال قبل میرے آبائی شہر شکار پور میں ایک ڈسٹرکٹ سیشن جج اقبال حسین رضوی تعینات تھے جو فجر کی نماز کے بعد اپنی عدالت میں آ کر بیٹھ جاتے تھے اور باہمی جھگڑوں میں ملوث مقدمات کے فریقوں سے جھگڑوں کی معلومات حاصل کراتے انھیں سمجھاتے کہ مقدمات میں خواری اور پریشانی ہی ہوتی ہے۔

اس لیے باہمی تنازعات عدالتوں سے باہر ہی طے کر لیا کریں تاکہ ان کا مالی نقصان، وقت کا ضیاع نہ ہو اور انھوں نے لوگوں کو سمجھا کر ان میں صلح کرائی اور مقدمات واپس کرائے تھے مگر آج کے نچلی سطح کے ججز ایسے نہیں ہیں جن سے فیصلے سالوں میں اس لیے ہوتے کہ فیصلوں میں تاخیر پر ان سے کوئی جواب طلبی نہیں ہوتی اور مقدمات طول پکڑتے ہیں اس لیے اب یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وکیل کے بجائے جج کر لیں۔ عدلیہ اور حکومت چاہے تو ثالثی اور جرگوں کے ذریعے عدالتوں سے بہت بڑا بوجھ کم کرا سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدالتوں سے اجلاس میں مقدمات کے کے ذریعے کی کمائی کی تعداد کے مطابق ہیں اور اس لیے اور ان ہے اور

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ