data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ریلوے کے جو افسران لمبی چھٹی یا ڈیپوٹیشن پر گئے ہیں ان سے ریلو ے کے سرکاری گھر خالی کرائیںگے ،ریل کاپ سے اپنا کام ہو نہیں رہا تھا باہر سے ٹھیکے لے رہی تھی اس لیے بند کردیاہے۔قائمہ کمیٹی نے ضلع مظفر گڑھ میں ریلوے کی زمین پر قبضہ کے معاملے پر آئندہ اجلاس میں ایس ایم بی آر کو طلب کرلیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کااجلاس چیئرمین رائے حسن نواز کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں ضلع مظفر گڑھ میں ریلوے کی کچھ اراضی ضلعی انتظامیہ کے زیر استعمال ہونے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا۔ جمشید دستی نے کہاکہ 1992-93 میں مقبوضہ لکھ کر ریلوے کی زمین پر قبضہ کرلیا گیا،چاروں طرف ریلوے کی اراضی ہے، ایک جگہ انہوں قبضہ کرلیا۔وزیر ریلوے حنیف عباسی نے سوال کیاکہ یہ زمین کس کی ملکیت ہے؟ جس پر کمشنر ڈی جی خان نے کہاکہ کاغذوں میں یہ زمین سینٹرل حکومت کی ملکیت ہے،جس پر وزیر ریلوے نے کہاکہ اس پر ہائیکورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں۔جمشید دستی نے کہاکہ ان کی رپورٹ کے مطابق ایک جگہ خالی پڑی تھی، ڈپٹی کمشنر نے اس کو استعمال میں لایا، کمیٹی نے معاملے پر آئندہ اجلاس میں ایس ایم بی آر کو طلب کرلیا۔ریلوے اسٹیشنز پر پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔ ریلوے حکام نے بتایاکہ تمام بڑے اسٹیشنز پر الیکٹرک واٹر کولر انسٹال ہیں، وزیر ریلوے نے بتایاکہ جینیٹوریل سروسز آوٹ سورس کی ہیں، ملتان، خانیوال، لاہور، راولپنڈی اسٹیشنز پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کئے ہیں، فوڈ کوالٹی کو یقینی بنایا ہے، جتنے سیلونز تھے عام لوگوں کے استعمال کے لیے رکھ دیئے ہیں،جو لوگ 1400 دنوں کی چھٹی پر گئے ہیں یا ڈیپوٹیشن پر گئے ہیں وہ ہمارا گھر خالی کریں۔رکن کمیٹی وسیم قادر نے کہاکہ 47 افسران ڈیپارٹمنٹ میں کام نہیں کر رہے ان کے پاس بڑی بڑی بڑی رہائشیں ہیں۔ریل کاپ، پریکس، اور پی آر ایف ٹی سی کو بند کرنے سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ۔حنیف عباسی نے کہاکہ ریل کاپ سے اپنا کام ہو نہیں رہا تھا باہر سے ٹھیکے لے رہی تھی، پی آر ایف ٹی سی اور ریلوے متوازی کام کررہے تھے، پریکس ٹکٹ بیچ رہی تھی، رائٹ سائزنگ کے حوالے سے 18000 آسامیاں ڈیلیٹ کر دی ہیں، ایم ایل ون کی اپگریڈیشن کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ۔حنیف عباسی نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا دو سے اڑھائی گھنٹے میں کیسے پنڈی سے لاہور اور لاہور سے پنڈی پہنچ سکتے ہیں، میں نے کہا ہمارے پاس وہ ٹرین موجود ہے جو 160 کلو میٹر کی رفتار تک چل سکتی ہے، ٹریک نہیں ہے، ہم نے 8 برانچ روٹس بھی ان کو بتائے، چالیس اسٹیشنوں پر وائے فائی فری لگنے جارہا ہے، کراچی سے روہڑی تک کے معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں،ہم ایم ایل ٹو کی خوشخبری بھی دیں گے،تمام ریسٹ ہاوسز کو آٹ سورس کرنے جارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حنیف عباسی نے وزیر ریلوے کمیٹی کو ریلوے کی نے کہاکہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف