پرویز رشید نے قادیانیت کی ترجمانی کا حق ادا کردیا،مفتی طاہر مکی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوآدم (پ ر)پرویزرشیدنے قادیانیت کی ترجمانی کاحق اداکیا ہے،توہین رسالت قانون سمیت کسی بھی اسلامی قانون کیساتھ چھیڑچھاڑہوئی تحریک جنم لیگی، اب تک پرویزرشیدکے بیان پرن لیگ اوربعض،مذہبی تنظیموں کی خاموشی افسوسناک ہے، تنظیم تحفظِ ناموسِ خاتم الانبیا پاکستان کی اپیل پرجمعہ کو پرویزرشیدکی جانب سے سینیٹ میں قادیانیوں کے حق میں دیے گئے بیان کیخلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایاگیا مساجدمیں مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں،تنظیم تحفظِ ناموسِ خاتم الانبیا پاکستان کے سربراہ مفتی محمد طاہرمکی ،ختم نبوت لائرز فورم کے چیئرمین میئومنظوراحمد راجپوت ایڈووکیٹ ، حافظ عبدالرحمن الحذیفی، ملک ذوالفقار نقشبندی ، پاسبان ختم نبوت کے حافظ شیراسامہ بن طاہر، رانا مختاراحمد راجپوت ، بان ختمِ نبوّت سندھ کے محرم علی راجپوت ،میراسامہ سموں ودیگر علما و عمائدین نے جمعہ کے اجتماعات میں خطاب کے دوران کہاہے کہ پرویز رشید نے گزشتہ دنوں سینیٹ اجلاس میں اسلامی قوانین کوختم کرنے کی قراردادپیش کرکے مسلمانوںکے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں جس کی آج تک نہ پرویزرشیدنے وضاحت دی ہے اورنہ ہی ن لیگ نے۔مفتی طاہرمکی نے کہا کہ عیدالاضحی میں قربانی سے قادیانیوں کوروکنے پر پرویز رشیدکوتکلیف ہوئی ہے جبکہ قربانی اسلام کا شعائرہے اوراسلامی شعائر قادیانی استعمال نہیں کرسکتے، پرویزرشید ہمیشہ اسلام دشمنی پر مبنی زبان استعمال کرتاہے اس سے قبل اسنے ماضی قریب میں دینی مدارس کو جہالت کی چھائونیاں کہہ کر کروڑوں علما طلبا کے ساتھ مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں۔علما اور خطبا نے جمعہ کے اجتماعات کے بعد کھڑے ہوکر قراردادیں پڑھ کر عوام کوسنائیں اور تائیدحاصل کی کہ پرویزرشیدکون لیگ فوری طور پر جداکرے یاپھر پرویز رشیدکے مؤقف کی تائیدکرکے اپنااصلی چہرہ مسلمانوں کے سامنے لائے بصورت دیگر عام انتخابات میں مسلمان ن لیگ کا بائیکاٹ کریں گے اورہم ہرشہرگلی کوچیمپئن ن لیگ کوقادیانی حامی جماعت کہ کر بائیکاٹ مہم چلائیں گے، پرویزرشید نے متحدہ مسائل پرگفتگو کرکے خودکواورن لیگ کومتنازعہ بنادیاہے۔دریں اثنا مفتی طاہرمکی نے بعض دینی جماعتوں کی جانب سے اب تک اس مسئلہ پر اظہار مذمت نہ کرنے کوتشویشناک قراردیتے ہوئے ان کے اس عمل کی مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔